
تصویر بشکریہ ایکس
نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو عظیم مجاہدِ آزادی خان عبدالغفار خان، جو سرحدی گاندھی اور باچا خان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان کی زندگی عدم تشدد، انسانی وقار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایسی مثال ہے جو آج بھی ہندوستان اور پورے جنوبی ایشیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
Published: undefined
ایکس پر اپنے پیغام میں کانگریس صدر نے خان عبدالغفار خان کو ’امن کا چراغ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات اور عملی جدوجہد نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور سماج میں باہمی احترام، رواداری اور انصاف کے اصولوں کو مضبوط کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ باچا خان کی سیاست طاقت یا تشدد پر نہیں بلکہ اخلاقی جرات، صبر اور عوامی بیداری پر مبنی تھی، جو آج کے دور میں بھی اتنی ہی معنویت رکھتی ہے۔
Published: undefined
کانگریس صدر نے کہا کہ خان عبدالغفار خان نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں غیر معمولی قربانیاں دیں اور اپنی پوری زندگی عدم تشدد کے اصول پر قائم رہے۔ انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ آزادی کی تحریک کے دوران غفار خان کو بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، مگر انہوں نے کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ کھڑگے کے مطابق، یہی ثابت قدمی انہیں تاریخ کے عظیم انسانوں میں شامل کرتی ہے۔
Published: undefined
کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ باچا خان کا مقصد صرف سیاسی آزادی نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسے سماج کا خواب دیکھتے تھے جہاں ہر انسان کو عزت، مساوات اور امن کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وقار کے لیے غفار خان کی جدوجہد آج کے سماجی اور سیاسی ماحول میں خاص طور پر اہم ہو جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے یاد دلایا کہ خان عبدالغفار خان کا انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ طویل اور مضبوط تعلق رہا۔ وہ کئی برسوں تک کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے اور دستور ساز اسمبلی کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ وابستگی اس بات کی علامت تھی کہ غفار خان متحدہ ہندوستان اور جمہوری اقدار پر پختہ یقین رکھتے تھے۔
Published: undefined
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عدم تشدد، ہم آہنگی اور انسان دوستی کی وہ اقدار جن کے لیے سرحدی گاندھی نے اپنی زندگی وقف کی، آج بھی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined