
ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے جنتر منتر کے قریب طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خود پارلیمنٹ میں حاضر ہو کر اس معاملے پر جواب دیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی طلبہ سے معافی مانگیں۔
کانگریس صدر کھڑگے نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 دن سے پورا حزبِ اختلاف اس مطالبے پر قائم ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آ کر طلبہ پر ہوئی کارروائی کی وضاحت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہوئی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کھڑگے نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے، پیلٹ گن کا استعمال کیا، الیکٹرک بیٹن اور کیل لگی لاٹھیاں بھی استعمال کی گئیں، جو کسی بھی جمہوری نظام میں قابل قبول نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ نے کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا تشدد نہیں کیا تھا۔ ان کا سوال تھا کہ کیا طلبہ نے سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا؟ کیا انہوں نے کسی رہنما کو روک کر بدتمیزی کی؟ طلبہ صرف پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کر رہے تھے، لیکن انہیں منتشر کرنے کے لیے سخت کارروائی کی گئی۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اپنے اقدامات کا جواز موجود ہے تو پھر وزیر داخلہ کو ایوان میں آ کر جواب دینے میں ہچکچاہٹ کیوں ہے۔ ان انہوں نے کہ اس خاموشی کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں، یا تو حکومت اس معاملے کو نظر انداز کرنا چاہتی ہے یا پھر وہ اس پر جواب دینے سے گھبرا رہی ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ طلبہ اور ان کے والدین کو جو تکلیف پہنچی ہے، اس پر حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کی موجودگی ضروری ہے تاکہ عوامی نمائندوں کے سوالات کے جواب دیے جا سکیں۔
انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی میں تعطل کے لیے بھی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر داخلہ ایوان میں آ کر بیان دے دیں تو تعطل ختم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ نہ چلنے کی ذمہ داری حزبِ اختلاف پر نہیں بلکہ حکومت، خاص طور پر وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی واضح مانگ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی طلبہ سے معافی مانگیں اور وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر تفصیلی بیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے جھارکھنڈ، پنجاب یا دہلی کے طلبہ ہوں، کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔