’پی ایم مودی چندہ چوری سمیت دیگر سنگین الزامات پر جوابدہی سے بچ نہیں سکتے‘، راجیہ سبھا میں کھڑگے کی دو ٹوک
ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں کہا کہ ’’پربھو رام کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے اور ملک کو گمراہ کرنے کا کام بند ہونا چاہیے۔‘‘

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مسلسل ہنگامہ ہو رہا ہے۔ منگل کو اجلاس کے تیسرے ہفتے کا دوسرا دن ہے۔ اس دوران عطیات چوری کو لے کر دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی تقریباً نصف گھنٹے کے ہنگامے کے بعد 12 بجے ملتوی کر دی گئی تھی، اس کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی لیکن ہنگامہ نہیں رکا تو چند منٹ بعد پھر سے 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے سے قبل کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا رکن ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ اور اس میں جو قیمتی نذرانوں، نقد عطیات، زمین کی خریداری اور انتظام کے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ کروڑوں عقیدتمندوں کے عقیدے کا معاملہ ہے۔ اس ٹرسٹ کی تشکیل مرکزی حکومت نے کی ہے، جس کا اعلان وزیر اعظم مودی نے خود ایوان میں کیا تھا۔‘‘
اپنی تقریر میں ملکارجن کھڑگے مزید کہتے ہیں کہ ’’مرکزی حکومت نے 70 ایکڑ سے زائد زمین ٹرسٹ کو سونپی ہے اور وزیر اعظم مودی بھومی پوجن سے لے کر پران پرتشٹھا تک ہر اہم موقع پر شریک رہے۔ ایسے میں وزیر اعظم عطیات چوری سمیت دیگر سنگین الزامات پر جوابدہی سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں ایوان میں بتانا چاہیے کہ ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس سمیت باقی تحقیقاتی ایجنسیاں کہاں ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’پربھو رام کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے اور ملک کو گمراہ کرنے کا کام بند ہونا چاہیے۔‘‘
اس درمیان پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ چیئرمین اور اسپیکر دونوں ایوانوں میں بحث کی اجازت دیں۔ رام مندر عطیات چوری اور طلبہ پر بربریت کے معاملے پر بحث ہوگی تو سچ خود بخود سامنے آ جائے گا لیکن نہ جانے کیوں حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر داخلہ امت شاہ بھی ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، یا تو وہ ڈر گئے ہیں یا پھر یہاں نہ آ کر ایوان کی توہین کر رہے ہیں۔‘‘
