اردو میڈیا نے ثقافتی بیانیے کو سب سے زیادہ اجاگر کیا: مشتاق صدف
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ’عصر حاضر میں اردو میڈیا کا کردار‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبہ کا انعقاد کیا گیا جسے اردو زبان و ادب کے ممتاز شاعر، نقاد اور صحافی ڈاکٹر مشتاق صدف نے پیش کیا

نئی دہلی: شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی کے زیر اہتمام ’عصر حاضر میں اردو میڈیا کا کردار‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبہ کا انعقاد کیا گیا جسے اردو زبان و ادب کے ممتاز شاعر، نقاد اور صحافی ڈاکٹر مشتاق صدف نے پیش کیا۔ جلسے کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری نے فرمائی۔
ڈاکٹر مشتاق صدف نے توسیعی خطبہ میں کہا کہ عصر حاضر میں اردو میڈیا نے پوری دیانتداری کے ساتھ ثقافتی بیانیے کو اجاگر کیا ہے۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود اردو میڈیا اردو زبان اور ہندوستانی تہذیب کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
ڈاکٹر صدف نے یہ بھی کہا کہ عوامی مسائل کے تدارک کے لیے اردو میڈیا کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ عام شہری اور پسماندہ طبقات کی آواز کو اقتدار تک پہنچانے میں بھی اردو میڈیا اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، نیز زبان کے محاسن اور فکری روایات کو ڈیجیٹل دنیا میں بڑی تند ہی سےمنتقل بھی کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اردو صحافت نے ادھر انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور موبائل ایپ کو اپنا کر جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کا ثبوت دیا ہے۔ مشتاق صدف جنہوں نے حال ہی میں سر سید اکیڈمی (اے ایم یو) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے، نے اپنے خطبہ میں فیک نیوز، جھوٹی خبروں کی تشہیر، پروپیگنڈہ، سنسنی خیزی، ریٹنگز اور ویوز بٹورنے کے لیے یکطرفہ رپورٹنگ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی جڑیں کمزور ہوں گی۔
ڈاکٹر صدف نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر اور ابو الکلام آزاد نے اپنی صحافت سے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں عصر حاضر کے اردو میڈیا کو بھی اس سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنی صدارتی تقریر میں صدر شعبہ اردو کے پروفیسر کوثر مظہری نے ڈاکٹر مشتاق صدف کے خطبے کو بے حد معلوماتی اور پرمغز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کے پیش نظر رائے عامہ کی تشکیل کے لیے خوشگوار فضا اور اظہار رائے کی آزادی کو مثبت رنگ عطا کرے۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر جاوید حسن نے مہمان مقرر ڈاکٹر مشتاق صدف کا بھرپور تعارف پیش کیا اور نظامت کے فرائض بھی بحسن و خوبی ادا کیے۔ آخر میں ڈاکٹر قرۃ العین نے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ کے ساتھ طلبا و طالبات، ریسرچ اسکالرز نے بطور خاص شرکت کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
