
کیرالہ کے ضلع کوزیکوڈ میں نیپاہ وائرس کا ایک نیا معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت الرٹ ہو گیا ہے۔ ضلع کے علاقے فاروق کے رہنے والے 43 سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ہنگامی سطح پر احتیاطی اور انسدادی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
مریض میں نیپاہ وائرس سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہونے کے بعد اسے کوزیکوڈ میڈیکل کالج اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ اسپتال کی تجربہ گاہ میں کی گئی جانچ کے دوران انفیکشن کا پتہ چلا، جس کے بعد مریض کو رات کے وقت خصوصی آئسولیشن سہولت میں منتقل کر دیا گیا۔ حتمی تصدیق کے لیے مریض کے نمونے قومی ادارۂ وائرسیات، پونے بھیج دیے گئے ہیں۔
Published: undefined
مریض پیشے کے اعتبار سے پرانی عمارتوں کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ فاروق میں ایک ایسی عمارت کی صفائی کے دوران وائرس سے متاثر ہوا جہاں چمگادڑوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ماہرین کے مطابق چمگادڑوں کے فضلے یا ان سے آلودہ اشیا کے رابطے میں آنے سے نیپاہ وائرس انسانوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق بیماری کی تشخیص میں تاخیر کے باعث تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ مریض ابتدا میں تیز بخار کی شکایت کے ساتھ طبی امداد کے لیے پہنچا تھا، تاہم بعد میں اس میں الجھن، ذہنی بے ترتیبی اور رویے میں تبدیلی جیسی علامات بھی ظاہر ہوئیں۔ اہل خانہ نے ابتدائی طور پر ان علامات کو شراب نوشی ترک کرنے کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے جوڑ کر دیکھا، کیونکہ مریض باقاعدگی سے شراب استعمال کرتا تھا۔
Published: undefined
بعد ازاں اسے ایک نشہ چھڑانے کے مرکز میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ کئی دن تک زیر علاج رہا۔ طبیعت مزید خراب ہونے پر اسے ایک بڑے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران اس کا متعدد افراد، عملے اور دیگر مریضوں سے رابطہ رہا، جس کے باعث ممکنہ متاثرین کی فہرست طویل ہو گئی ہے۔
صحت حکام نے مریض کی نقل و حرکت کا تفصیلی ریکارڈ تیار کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے قریبی رابطوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ایسے تمام افراد کو سخت نگرانی میں رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ انفیکشن کا بروقت پتہ چل سکے۔
Published: undefined
کوزیکوڈ میڈیکل کالج نے آئسولیشن وارڈ کے اطراف سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ متعلقہ بلاک میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے، رکاوٹیں نصب کر دی گئی ہیں اور قریبی پارکنگ کی سہولت بھی معطل کر دی گئی ہے۔
نیپاہ وائرس جانوروں خصوصاً چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک خطرناک انفیکشن ہے۔ اس سے تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، قے، اعصابی مسائل اور دماغی سوجن جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ چونکہ وائرس سے متاثر ہونے کے چار سے چودہ دن بعد علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، اس لیے حکام نے عوام کو محتاط رہنے اور مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ پونے سے حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ کوزیکوڈ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ہائی الرٹ برقرار ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined