قومی خبریں

کرناٹک حجاب تنازعہ: حجاب پہن کر امتحان دینے کی درخواست پر سماعت کرے گا سپریم کورٹ

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس۔ نرسمہا کی بنچ نے عرضی کی سماعت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ کرناٹک کی پری یونیورسٹی کالجوں میں حجاب پہن کر سالانہ امتحان میں شامل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنے والی طالبات کے ایک گروپ کی درخواست پر سماعت کی جائے گی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس۔ نرسمہا کی بنچ نے عرضی کی سماعت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

Published: undefined

درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ شادان فراست نے دعویٰ کیا کہ انہیں مارچ سے شروع ہونے والے سالانہ امتحانات میں شرکت کرنا ہے۔ طالبات حجاب پہن کر اس امتحان میں شرکت کی اجازت چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو پہلے ہی ایک سال کا نقصان ہو چکا ہے۔ اگر کوئی راحت نہیں دی جاتی ہے تو ان کا مزید ایک سال ضائع ہو جائے گا۔

Published: undefined

وکیل شادان فراست نے بنچ کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حجاب تنازعہ کی وجہ سے یہ طالبات پہلے ہی اپنا ٹرانسفر پرائیویٹ کالجوں میں کرالیا تھا، لیکن انہیں امتحانات میں شرکت کے لیے سرکاری کالجوں میں جانا پڑتا ہے۔ وکیل نے اس معاملے میں عبوری راحت کی استدعا کی ہے۔ اسی طرح کی درخواست 23 جنوری کو بھی طالبات کی جانب سے کی گئی تھی۔

Published: undefined

عدالت عظمیٰ نے 13 اکتوبر 2022 کو پری یونیورسٹی کالجوں میں حجاب پہننے پر کرناٹک حکومت کی طرف سے پابندی کی قانونی حیثیت پر الگ الگ فیصلہ دیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت ججوں کی بنچ کے سامنے کی جانی تھی۔ عدالت عظمیٰ کی جسٹس ہیمنت گپتا (ریٹائرڈ) اور جسٹس سدھانشو دھولیا پر مشتمل بنچ نے کہا تھا کہ چونکہ اختلاف رائے ہے، اس لیے اس معاملے کو غور کے لیے ایک بڑی بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیجا جائے گا۔

Published: undefined

جسٹس گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے 15 مارچ 2022 کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا، جس میں ایک کمیونٹی کو اپنی مذہبی علامتیں پہننے کی اجازت دینا سیکولرازم کے خلاف مانا گیا تھا۔ جسٹس گپتا کے برعکس، جسٹس دھولیا نے اپنے فیصلے میں اپیل کی اجازت دینے اور 5 فروری 2022 کو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے سے اتفاق نہیں کیا تھا، جس میں حجاب پہن کر کالجوں میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined