قومی خبریں

اسپتال میں زیر علاج کرناٹک کے کابینہ وزیر ڈی سدھاکر کا انتقال، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا اظہار افسوس

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ڈی سدھاکر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے انتقال سے پارٹی اور ریاست کی سیاست کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ڈی سدھاکر، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ&nbsp;@dsudhakar2727</p></div>

ڈی سدھاکر، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ @dsudhakar2727

 

کرناٹک کے وزیر اور کانگریس رہنما ڈی سدھاکر کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ کافی عرصے سے زیر علاج تھے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ریاستی وزیر اور کانگریس لیڈر ڈی سدھاکر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہمارے کابینہ کے ساتھی اور میرے عزیز دوست ڈی سدھاکر، جو علالت کے باعث زیر علاج تھے، ان کے آج انتقال کر جانے کی خبر نے شدید دکھ پہنچایا ہے۔ ہیریور کے رکن اسمبلی، چتردُرگ ضلع کے انچارج وزیر اور ریاست کے منصوبہ بندی و شماریات کے وزیر کی حیثیت سے ڈی سدھاکر عوام کا گہرا درد رکھنے والے رہنما تھے۔‘‘

Published: undefined

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں ڈی کے شیوکمار مزید لکھتے ہیں کہ ’’وہ غریبوں کے محسن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ جب بھی وہ مجھ سے ملنے آتے، تو ہمیشہ اپنے حلقے کے کسی نہ کسی ترقیاتی کام کی درخواست ساتھ لاتے۔ ان کی یہ خوبی اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے ان کی بے پناہ محبت کی عکاسی کرتی تھی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’سدھاکر کا آج اپنے خاندان، رشتہ داروں اور بے شمار حامیوں کو سوگوار چھوڑ جانا ایک ایسا نقصان ہے جسے کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔ میں دعا گو ہوں کہ ایشور ڈی سدھاکر کی روح کو ابدی سکون عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ڈی سدھاکر کرناٹک کانگریس کے سینئر رہنما اور چتردُرگ ضلع کی ہیریور اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا۔ 2004 میں وہ پہلی بار چلاکیرے اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں حلقہ بندی کی وجہ سے چلاکیرے کی سیٹ درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہو گئی۔ اس کے بعد ڈی سدھاکر نے ہیریور سیٹ سے سیاست جاری رکھی۔ اگرچہ اس وقت کانگریس نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور سال 2008 میں جیت حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے بی ایس یدی یورپا کی قیادت والی حکومت کی حمایت کی اور سماجی بہبود کے وزیر کا عہدہ سنبھالا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined