قومی خبریں

کملیش تیواری قتل معاملہ: اب بریلی سے ’مولانا‘ کیفی علی رضوی گرفتار

کملیش تیواری کی گذشتہ جمعہ کو راجدھانی لکھنؤ میں ہوئے قتل کے معاملے میں اے ٹی ایس نے بریلی سے منگل کو ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں مزید ایک مولانا کو اپنی حراست میں لیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

لکھنؤ: ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیواری کی گذشتہ جمعہ کو راجدھانی لکھنؤ میں ہوئے قتل کے معاملے میں اے ٹی ایس نے بریلی سے منگل کو ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں مزید ایک مولانا کو اپنی حراست میں لیا ہے۔

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST

ذرائع کے مطابق لکھنؤ سے گئی ایس ٹی ایف نےکملیش تیواری کی قتل کے ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں بریلی سے مولانا کیفی علی رضوی کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔ ٹیم آج علی الصبح انہیں لکھنؤ لے کر آئی۔ الزام ہے کہ جمعہ کی رات بریلی آئے قتل کے ملزمین مولانا کے گھر کچھ دیر تک ٹھہرے تھے۔

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST

پولس کے مطابق لکھنؤ میں کملیش تیواری کے قتل کے بعد ملزموں کی لوکیشن لکھنؤ کے بعد شاہجہاں پور، بریلی اور مرادآباد کے بعد انبالہ ہونے کی اطلاع ہے اور پولس کی ٹیمیں ان تمام مقامات پر کا لگاتار دورہ کر رہی ہیں۔ الزام ہے کہ کملیش کا قتل کرنے کے بعد دونوں ملزم مولانا کیفی علی رضوی سے ملنے بریلی گئے تھے۔

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST

قبل ازیں، گزشتہ شام پولس نے شیخ اشفاق حسین اور پٹھان معین الدین احمد عرف فرید کی تصاوین جاری کیں، پولس نے ان دونوں کو اہم ملزمان قرار دیا ہے۔ اتر پردیش پوسل کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا کہ قتل کے دونوں ملزمان اشفاق اور معین الدین پٹھان کی کوئی بھی اطلاع دینے والوں کو ڈھائی-ڈھائی لاکھ روپے کے انعام سے نوازا جائے گا۔

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST

پولس نے یہاں تک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں ملزمان پاکستان کی سرحد بھی عبور کر سکتے ہیں۔ پولس کے مطابق دو دن قبل کی اہم ملزمان کی لوکیشن ہریانہ کے انبالہ کی ملی ہے جوکہ اٹاری بارڈر سے محض 285 کلومیٹر دور واقع ہے۔ پولس نے پہلے کہا کہ دونوں ملزمان سات آٹھ گھنٹے میں اپنے موبائل فون کو آن کر رہے ہیں اور بعد میں اسے آف کر دیتے ہیں اور بعد میں کہا کہ کال ٹریس ہونے کے خوف سے دونوں ملزمان نے اپنے فون مستقل طور پر بند کر دئے ہیں اور اب وہ بہانا بنا کر راہگیروں سے فون مانگ کر بات کر رہے ہیں۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM IST