قومی خبریں

مدھیہ پردیش حکومت کسانوں کا گیہوں خریدنے کی خواہش نہیں رکھتی: کمل ناتھ

کمل ناتھ نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ کسانوں سے امدادی قیمت پر گیہوں خریدنے میں سنجیدہ نہیں، نیز سلاٹ بکنگ، سیٹلائٹ سروے اور بار دانے کی کمی کو بہانہ بنا کر کسانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>کمل ناتھ / آئی اے این ایس</p></div>

کمل ناتھ / آئی اے این ایس

 

بھوپال: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے ریاست کی موہن یادو کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت کی نیت ہی کسانوں سے امدادی قیمت پر گیہوں خریدنے کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف ہر دانہ خریدنے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے انتظامات کیے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے کسان آسانی سے اپنی فصل فروخت نہیں کر پا رہے ہیں۔

Published: undefined

کمل ناتھ نے کہا کہ اس بار حکومت نے کسانوں کے خلاف ایک ایسا چکر ویوہ تیار کیا ہے جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان بری طرح پھنس گئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے پہلے بار دانے کی کمی کا بہانہ بنا کر خریداری کے عمل کو تقریباً ایک ماہ تک مؤخر رکھا، جس کے نتیجے میں چھوٹے کسان مجبور ہو کر اپنی فصل کم قیمت پر بیچولیوں کو فروخت کرنے لگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب خریداری کا عمل شروع ہوا تو سلاٹ بکنگ میں سیٹلائٹ سروے کا حوالہ دے کر بڑی تعداد میں کسانوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ کسان اس بات سے حیران ہیں کہ ان کے کھیتوں میں موجود فصل کو سیٹلائٹ کے ذریعے کیسے مسترد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سلاٹ بکنگ کے نظام میں مسلسل رکاوٹیں بھی کسانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

Published: undefined

سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ چھوٹے کسانوں کو اس الجھن میں ڈالنے کے بعد حکومت نے درمیانے اور بڑے کسانوں کے لیے بھی نئی شرائط نافذ کر دی ہیں۔ اب پانچ ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کی خریداری کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ دیگر کسانوں کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو معلوم ہے کہ چھوٹے کسان پہلے ہی بڑی تعداد میں اپنی فصل بیچ چکے ہیں، اس طرح مجموعی طور پر خریداری کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کمل ناتھ نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 23 اپریل تک تقریباً 19 لاکھ کسانوں نے امدادی قیمت پر گیہوں فروخت کرنے کے لیے رجسٹریشن کرایا، مگر صرف 7 لاکھ کسانوں کو ہی سلاٹ مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن اور سلاٹ الاٹمنٹ کے درمیان یہ بڑا فرق حکومت کی پالیسیوں پر سوال کھڑا کرتا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا 100 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں خریدنے کا ہدف حقیقت سے دور ہے، کیونکہ گزشتہ سال ریاست میں تقریباً 245 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی پیداوار ہوئی تھی اور اس بار پیداوار میں اضافہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔

کمل ناتھ نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو الجھانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ خریداری کو یقینی بنائے، سلاٹ بکنگ اور سیٹلائٹ سروے سے جڑی مشکلات کو دور کرے اور کسانوں سے کیے گئے 2700 روپے فی کوئنٹل امدادی قیمت کے وعدے کو پورا کرے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined