قومی خبریں

جموں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 45 تک پہنچی، ہزاروں محفوظ مقامات پر منتقل

جموں میں ریکارڈ بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد مزید چار لاشیں برآمد، ہلاکتیں 45 تک پہنچ گئیں۔ ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل، سڑکیں بند، امدادی کارروائیاں جاری

<div class="paragraphs"><p>جموں میں تباہی کا منظر / آئی اے این ایس</p></div>

جموں میں تباہی کا منظر / آئی اے این ایس

 

جموں: جموں و کشمیر کے جموں اور سانبہ اضلاع میں ریکارڈ بارش اور شدید سیلاب کے بعد ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز ترین رفتار سے جاری ہیں۔ گزشتہ روز مختلف مقامات سے مزید چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 45 تک پہنچ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو روز میں ہونے والی غیر معمولی بارش کے باعث شدید طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ خاص طور پر مشہور ماتا ویشنو دیوی یاترا کی روٹ پر لینڈ سلائیڈنگ سے 34 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 14 خواتین شامل ہیں۔ اب تک 24 لاشوں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔

Published: undefined

سرکاری ذرائع کے مطابق، جموں میں چار مزید لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں ایک لاش ناگروٹہ میں دریائے توی سے، ایک مرہ علاقے کے نالے سے، ایک آر ایس پورہ کے کرکھولا علاقے میں سرحدی باڑ کے قریب اور ایک سانبہ کے بری برہمنہ کے ٹیلی بستی علاقے سے نکالی گئی۔

ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ اب تک بارہ ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباً 50 دیہات کی سڑک رابطے کی لائنیں منقطع ہیں۔ درجنوں سڑکیں اور پل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہیں۔ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ اور کیچڑ ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔

Published: undefined

محکمہ فلڈ کنٹرول کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بڑے دریاؤں جن میں توی، چناب، بسنتَر، راوی اور اُجھ شامل ہیں، میں پانی کی سطح اب کم ہونا شروع ہوگئی ہے، تاہم نشیبی علاقوں میں رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر ریلوے حکام نے بتایا کہ بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب بدھ کو 58 ٹرینیں منسوخ کی گئی تھیں، تاہم جمعرات کو دو ہزار سے زائد پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں 14 اگست کو کشتواڑ کے چسوتی علاقے میں بادل پھٹنے سے شدید تباہی ہوئی تھی، جس میں 65 افراد، زیادہ تر یاتری، لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس واقعے میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے اور 32 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

حکام نے کہا کہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور تجارتی املاک کی بحالی کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام مقامی لوگوں کی حفاظت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined