
نئی دہلی: کانگریس نے اروناچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ پیما کھانڈو کے اہل خانہ سے منسلک کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکے دیے جانے کے معاملے کو لے کر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف سنگین سوالات اٹھنے کے باوجود انہیں عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ’کھایا ہے، کھانے دیا ہے اور کھلوایا بھی ہے۔‘
جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو دی گئی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر سوال اٹھائے۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ نے 6 اپریل 2026 کو اروناچل پردیش میں یکم جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان دیے گئے سرکاری تعمیراتی کاموں، ٹھیکوں اور ورک آرڈرز کی سی بی آئی سے ابتدائی جانچ کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے سامنے بتایا گیا تھا کہ اس عرصے میں تقریباً 1270 کروڑ روپے کے ٹھیکے ایسی کمپنیوں کو دیے گئے جنہیں کھانڈو کے اہل خانہ سے منسلک بتایا گیا۔
سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو دو ہفتوں کے اندر ابتدائی انکوائری درج کرنے اور 16 ہفتوں کے اندر اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا معاملے میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ میں کھلے اور مسابقتی ٹینڈر کے عمل سے بار بار انحراف، مسابقت ختم کرنے کی وجوہات کے ریکارڈ نہ ہونے اور اہم دستاویزات کی عدم دستیابی جیسے معاملات سامنے آئے تھے۔
رمیش نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایسی صورتِ حال کے بعد کھانڈو کو فوری طور پر وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا یا ان سے استعفیٰ لیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم مودی پر بھی معاملے کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق 3 اگست کو سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش حکومت کے اعلیٰ افسران کو طلب کیا تھا، کیونکہ سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ ریاستی حکومت تحقیقات میں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہی۔ 24 اگست کو چیف سکریٹری اور پرنسپل سکریٹری (داخلہ) عدالت میں پیش ہوئے۔
24 اگست کی سماعت میں ریاستی حکومت نے کہا کہ اس نے سی بی آئی کو مطلوبہ تمام معلومات اور ریکارڈ فراہم کیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریاست کے جواب کا نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی سے معاملے پر تازہ اسٹیٹس رپورٹ طلب کی۔ رپورٹس کے مطابق عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ریاست کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ کے بجائے تمام ٹھیکوں سے متعلق بڑی مقدار میں دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے جانچ کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کا عہدے پر برقرار رہنا غیر معمولی اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے اپنی پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ ’کھایا ہے، کھانے دیا ہے اور کھلوایا بھی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔