
نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ای-20 پٹرول کی پالیسی کو لے کر مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے عام اور متوسط طبقے کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے، جبکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ایتھنول پیدا کرنے والی صنعتوں کو ہوا ہے۔
جے رام رمیش نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مارچ 2025 سے ملک کے بیشتر عام پٹرول پمپوں پر عملی طور پر صرف ای-20 پٹرول ہی دستیاب کرایا جا رہا ہے، جس کے باعث صارفین کے پاس عام پٹرول کا متبادل تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں پہلے یہ کہہ چکے تھے کہ ایتھنول کے امتزاج سے ڈیزل کی قیمت 50 روپے فی لیٹر اور پٹرول کا متبادل 55 روپے فی لیٹر تک دستیاب ہو سکے گا، لیکن حقیقت میں قیمتوں میں ایسی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔
کانگریس رہنما نے ایک آزاد تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپریل 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان ایتھنول ملاوٹ والے ایندھن سے کم مائلیج ملنے کے باعث صارفین کو مجموعی طور پر تقریباً 88,234 کروڑ روپے کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، اب صارفین پہلے دستیاب عام پٹرول کے مقابلے میں ای-20 پٹرول پر زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی تو کم مائلیج سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے ای-20 پٹرول کی خوردہ قیمت کم کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کے ایتھنول روڈ میپ میں بھی ای 10 اور ای-20 ایندھن پر صارفین کو مالی اور ٹیکس مراعات دینے کی سفارش کی گئی تھی تاکہ انہیں اس تبدیلی سے ہونے والے اضافی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے برعکس مودی حکومت نے ایتھنول پیدا کرنے والوں کے لیے 4,000 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی منظور کر دی، جس سے اس پالیسی کا فائدہ عام صارفین کے بجائے صنعتوں کی جانب منتقل ہو گیا۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ای-20 پالیسی نے متوسط طبقے سے ایندھن کے انتخاب کا حق چھین لیا ہے، ان پر زیادہ ایندھن خرچ کرنے کا بوجھ ڈال دیا ہے اور ان گاڑیوں کی لاگت بھی بڑھا دی ہے جنہیں خریدنے کے لیے لوگوں نے برسوں تک بچت کی تھی۔
انہوں نے آخر میں دعویٰ کیا کہ اگر ای-20 پالیسی سے کسی طبقے کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے تو وہ ایتھنول پیدا کرنے والے ادارے ہیں، جبکہ عام شہری اس کے معاشی اثرات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، حکومت کی جانب سے جے رام رمیش کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔