قومی خبریں

ایران-اسرائیل جنگ کا اثر تجارت پر بھی، بامستی چاول کی برآمد میں رکاوٹ، ہریانہ کے تاجر فکرمند

اس سال ہندوستان سے ایران کے لیے 6 ملین ٹن چاول برآمد کیا گیا، جس میں 35-30 فیصد ہریانہ سے گیا ہے۔ لیکن جنگ کی وجہ سے فی الحال کچھ شپمنٹ کانڈلا پورٹ پر ہولڈ کر دیے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایکسپورٹ کے لیے تیار چاول (فائل)/ آئی اے این ایس </p></div>

ایکسپورٹ کے لیے تیار چاول (فائل)/ آئی اے این ایس

 

ایران-اسرائیل جنگ کا اثر ہندوستان پر بھی پڑنے لگا ہے۔ ہریانہ کے چاول کاروبار پر اس جنگ نے شدید چوٹ پہنچائی ہے۔ کرنال، کیتھل سمیت کئی شہروں سے ہر سال ایران کو تقریباً ایک ملین ٹن باسمتی چاول کی برآمد ہوتی ہے۔ جنگ کی وجہ سے فی الحال کچھ شپمنٹ کانڈلا پورٹ پر ہولڈ کر دیے گئے ہیں کیونکہ جنگ کی حالت میں انشورنس نہیں ہوتا۔

Published: undefined

آل انڈیا رائس ایسو سی ایشن کے صدر ستیش گوئل نے بتایا کہ ایران ہندوستان سے باسمتی چاول خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس سال ہندوستان سے 6 ملین ٹن چاول برآمد ہوا، جس میں 35-30 فیصد ہریانہ سے گیا ہے۔ تاجر برادری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔ مسٹر گوئل نے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایسی حالت بنی ہوئی ہے۔ امید ہے مسئلے کا جلد حل نکل آئے گا۔ دو مہینوں میں بڑے پیمانے پر چاول برآمد کی گئی۔ فی الحاج کچھ دنوں سے جو شپمنٹ جانی تھی، وہ روک دی گئی ہے، کیونکہ جنگ کی حالت ہے۔

Published: undefined

ستیش گوئل نے امید ظاہر کی کہ چاول کی تجارت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ جب کہیں جنگ کی حالت ہوتی ہے تو کھانے سے جڑی چیزوں کی تجارت جاری رہتی ہے۔ امید ہے کہ یہ معاملہ جلدی حل ہو جائے گا کیونکہ حکومت ہند کا رابطہ بھی چاول سے جڑے تاجروں کے ساتھ ہے، جو کہ چاول ایران میں بھیجتے ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ جو چاول پہنچ گیا ہے، اس کا تو کوئی معاملہ نہیں ہے، پر جو ہم نے کانڈلا پورٹ پر ہولڈ کر دیا ہے، وہ امید کرتے ہیں کہ آگے نکلے گا اور بازار پھر سے پہلے کی طرح ہموار ہو جائے گا۔ گوئل نے کہا کہ ایران بڑا ملک ہے، جو ہم سے چاول خریدتا ہے، اگر وہاں جنگ کی حالت ہے تو چاول کی قیمت میں تھوڑی کمی آئی ہے۔ یہ جیسے ہی ٹھیک ہوگا، چاول کی قیمت پہلے کی طرح ہو جائے گی اور بازار صحیح چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال 6 ملین ٹن چاول ہندوستان سے باقی ملکوں کو بھیجا ہے۔ ہندوستان سے جو چاول بیرون ملک جاتا ہے، اس کا 30 سے 35 فیصد ہریانہ سے جاتا ہے۔

Published: undefined

ستیش گوئل نے کہا کہ حکومت سے ہم سیدھے طور پر رابطے میں ہیں اور بات چیت مسلسل جاری ہے۔ 24 جون کو مرکزی وزیر پیوش گوئل سے بھی ملاقات ہونی ہے۔ ان کے سامنے بھی اپنی پوری بات رکھیں گے۔ بس دل میں ایک خوف ہے کہ اس جنگ کی حالت میں راستے میں اگر کوئی دقت آتی ہے تو پریشانی بڑھ جائے گی۔ ویسے تو چاول کا انشورنس ہوتا ہے لیکن جنگ میں کوئی انشورنس نہیں ہوتا۔ حکومت اس پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر جنگ زیادہ طویل چلتی ہے تو کیا پتہ اس حالت میں بھی چاول کے انشورنس کا نظم نکل آئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined