قومی خبریں

راشٹرپتی بھون میں تعینات آئی پی ایس وینو بنسل ہٹائے گئے، غیر پارلیمانی سلوک کا لگا الزام

دہلی پولیس کمشنر کے خصوصی ڈیوٹی افسر جوائنٹ پولیس کمشنر ایس کے جین نے پیر کی دیر شب وینو بنسل کو راشٹرپتی بھون سے ہٹائے جانے کا حکم جاری کیا۔

راشٹرپتی بھون
راشٹرپتی بھون تصویر سوشل میڈیا

راشٹرپتی بھون میں تعینات دہلی پولیس کے ایک سینئر آئی پی ایس افسر وینو بنسل کے غیر پارلیمانی رویے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد پیر کی شب جوائنٹ پولیس کمشنر وینو بنسل کو راشٹرپتی بھون سے ہٹا دیا گیا۔ انہیں فوری طور پر دہلی پولیس ہیڈکوارٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ کئی افسران اسے راشٹرپتی بھون کی سیکورٹی میں سنگین رخنہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

وینو بنسل 2004 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں۔ وہ اے جی ایم یو ٹی کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت جوائنٹ پولیس کمشنر سیکورٹی کے عہدے پر تعینات تھے۔ دہلی پولیس کمشنر کے خصوصی ڈیوٹی افسر جوائنٹ پولیس کمشنر ایس کے جین نے پیر کی دیر شب ان کو راشٹرپتی بھون سے ہٹائے جانے کا حکم جاری کیا۔ اس حکم میں وینو بنسل کو پولیس ہیڈکوارٹر سے منسلک کرنے کی بات کہی گئی۔ حکم میں فوری اثر سے اور اگلے حکم تک کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹر سے اٹیچ ہوں گے اور اگلے حکم تک وہیں رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس میں شمال مغربی ضلع کے پولیس ڈپٹی کمشنر رہتے ہوئے بھی وہ کافی تنازعات میں رہے تھے۔ ان تنازعات کے باعث انہیں پہلے بھی ضلع سے ہٹا دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے سینئر ذرائع کے مطابق جوائنٹ پولیس کمشنر کے غیر پارلیمانی رویے کے باعث راشٹرپتی بھون کا کافی اسٹاف چھٹی پر چلا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ذاتی جاننے والوں کے لیے راشٹرپتی بھون کے گولف میدان کا استعمال کرتے تھے۔ اسے راشٹرپتی بھون کی سیکورٹی سے متعلق ایک سنگین مسئلہ بتایا جا رہا ہے۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک تقریب میں ایک خاندان کے فرد کو ساتھ لے گئے تھے۔ راشٹرپتی بھون میں اس کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

سب سے سنگین معاملہ یہ ہے کہ وینو بنسل نے فوج کے بڑے افسران کو بلیو بک کا حوالہ دیا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت افسران کو نامناسب رویے کی ہدایات دی تھیں۔ یہ ہدایات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں تھیں۔ انہوں نے فوج کے ایک افسر سے متعلق بلیو بک کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خط بھی لکھا تھا۔ تاہم، منگل کی شام تک اس خط میں کیا لکھا تھا اور کس کے نام لکھا گیا تھا، اس کا انکشاف نہیں ہو سکا تھا۔ اس واقعے سے فوج کے افسران کافی ناراض ہو گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔