
اکھلیش یادو / آئی اے این ایس
اتر پردیش کے الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ریاست میں طاقتور سیاستدانوں اور مجرمانہ پس منظر والے لوگوں کے اسلحہ لائسنس کے بارے میں تمام اضلاع سے رپورٹیں طلب کئے جانے کے بعد اب اس پر سیاسی رد عمل آنے شروع ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حقیقی ہتھیاروں کے لیے تو لائسنس جاری کیے جاتے ہیں لیکن کچھ نظر نہ آنے والے ہتھیار بھی ہیں جو خفیہ طور پر ملک، سماج اور آپسی محبت پر اندر سے بہت مہلک حملہ کر رہے ہیں۔
Published: undefined
ایس پی سربراہ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ’ایکس‘ پر اس معاملے میں ایک طویل پوسٹ لکھی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر غیر قانونی طور پر دکان، دفتر کے نقشے بنانے کا الزام بھی لگایا اور ان کے جواز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایس پی صدر اکھلیش یادو نے لکھا کہ حقیقی ہتھیارکے لیے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں لیکن کچھ نظر نہ آنے والے ہتھیار بھی ہیں جو خفیہ طور سے ملک، سماج اور باہمی محبت پر اندر س بے حد خطرناک حملہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں وکلاء کے چیمبروں کو مسمار کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید لکھا کہ وکلاء کہہ رہے ہیں کہ لگے ہاتھوں بی جے پی کے لوگوں کے گھروں، دکانوں، دفاتر اور اداروں کے دستاویزات اور نقشے طلب کیے جائیں اور ان کی قانونی حیثیت کی بھی جانچ کی جائے۔
Published: undefined
اس کے ساتھ ہی بی جے پی اور ان کے دوست اور حامیوں کے ذریعہ تعمیرات، تقریبات اور آفات سے راحت کے نام پر ’جگہ جگہ‘ سے بٹورے گئے ’طرح طرح‘ چندے-فنڈ کا حساب بھی مانگا جائے اور ان کا آڈٹ ہو اور ہاں عوام کا مطالبہ بھی ہے کہ اس معاملے کے قانونی پہلو کی وضاحت کی جائے کہ ’غیر رجسٹرڈ‘ لوگ زمین کس کے نام سے لے کر تعمیرات کرتے ہیں اور یہ جائیدادیں کیسے بے نامی نہیں ہیں؟
Published: undefined
اکھلیش یادو یہیں نہیں رکے، انہوں نے بی جے پی لیڈروں اور ان کے قریبی ساتھیوں پر براہ راست الزام لگاتے ہوئے لکھا کہ عوام میں بھی تجسس ہے کہ کیا خفیہ سرگرمیوں میں ملوث بی جے پی کے ساتھیوں کی اس طرح کی تعمیرات کو ’دفاتر‘ کہا جائے یا ’اڈہ‘؟ ان ’دوست-ساتھی‘ غیر قانونی لوگوں کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے؟ اس کی سچائی تلاش کرکے حقیقت کو بے نقاب کیا جائے۔ یہ نام نہاد دیسی ’دوست-ساتھی‘ بیرون ملک دورے کرنے کیوں جاتے ہیں؟ ایس پی سربراہ نے ان سب کو ایک ہی سنڈیکیٹ کی کٹھ پتلیاں بتاتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ یہ ’ساتھی-دوست‘ نوآبادیاتی دور سے کس کی کٹھ پتلی ہیں؟ ان ’دوستوں‘ کی تاریخ مخبری کی کیوں رہی ہے ؟ یہ ’ساتھی-دوست‘ سماجی ہم آہنگی کو کیوں بگاڑتے ہیں؟ وکلاء یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اب یہ’ ساتھی-دوست‘ کس نئی سازش کے تحت ’انسانیت کے وقار‘ پر لاٹھیاں چل رہی ہیں؟
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined