
فوٹو آئی اے این ایس
ہندوستانی محکمہ ڈاک کے نام پرجعلی ڈاک ٹکٹ تیارکرکے انہیں مختلف ریاستوں میں فروخت کرنے والے ایک شاطربین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ ممبئی کی ایم آراے مارگ پولیس کی اس کارروائی میں ملزمین سے لاکھوں روپے مالیت کے جعلی ڈاک ٹکٹ بھی برآمد کئے گئے ہیں۔
Published: undefined
اس سلسلے میں پولیس افسران نے بتایا کہ 12 ستمبر 2025 کو ممبئی جی پی او کے پوسٹل انسپکٹر آشوتوش جمعدار سنگھ کمار نے ایم آر اے مارگ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں بتایا گیا تھا کہ بازار میں بڑی مقدارمیں مشتبہ ڈاک ٹکٹ گردش کر رہے ہیں۔ پولیس نے تکنیکی تحقیقات کا آغاز کیا اور جی پی او سے معلومات جمع کی گئیں جس میں انکشاف ہوا کہ یہ گروہ بڑے پیمانے پر جعلی ڈاک ٹکٹ چھاپ کر کوریئر کے ذریعے ملک بھر میں سپلائی کر رہا تھا۔
Published: undefined
تفتیش کے دوران پولیس کو ملزمین کے بینک کھاتوں میں 7 سے 8 کروڑ روپے کے مشکوک لین دین کا پتہ چلا جس سے معاملہ مزید الجھ گیا۔ تفتیش اور مخبر کی اطلاع کی بنیاد پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس نیٹ ورک کے اہم آپریٹر دہلی اور اتر پردیش میں چھپے ہوئے تھے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملزمین مسلسل اپنے موبائل نمبر اور لوکیشن تبدیل کر رہے تھے۔
Published: undefined
ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نے دہلی میں 14 دنوں تک قیام کرکے مخبر سے معلومات اکٹھی کیں اور ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ تلاشی کے دوران کل 27,84,200 روپے مالیت کے جعلی ڈاک ٹکٹ ضبط کیے گئے۔ پولیس کے مطابق اس جعلسازی سے حکومت کو بھاری ریونیو نقصان ہوا ہے۔ اس وقت گروہ کے دیگر ارکان اور پورے نیٹ ورک کے بارے میں مکمل تفتیش جاری ہے۔ اس کارروائی میں پولیس نے ممبئی کے راکیش بند، بہار کے شمس الدین غفار اور شاہد رضا، دہلی کے محمد شہاب الدین شیخ اور غازی آباد کے ویریندر پرساد کو گرفتار کیا ہے۔
Published: undefined
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان افراد نے جعلی ڈاک ٹکٹ کیسے تیار کیے اور کس کے ذریعے بازار میں سپلائی کیے۔ گرفتار ملزمین سے پوچھ گچھ جاری ہے اور گروہ کے دیگر ارکان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ممبئی پولیس کی ٹیمیں اتر پردیش، بہار اور دہلی میں مسلسل تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔ اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ تاحال فرار ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined