آئی اے این ایس
اوٹاوا: کینیڈا کے شہر ہیملٹن میں ایک ہندوستانی طالبہ کی ہلاکت کے بعد ہفتہ کو اس کے اہل خانہ نے بیان جاری کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی لاش کو جلد از جلد وطن واپس لایا جائے۔ مقتولہ طالبہ ہرسمرت رندھاوا دو سال قبل تعلیم کے لیے کینیڈا گئی تھیں اور وہاں کے مشہور موہاک کالج میں زیر تعلیم تھیں۔
Published: undefined
اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہرسمرت حادثے کے وقت بس کا انتظار کر رہی تھیں کہ اچانک دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے دوران فائرنگ شروع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ہرسمرت کا ان گروہوں سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن بدقسمتی سے وہ فائرنگ کی زد میں آ گئیں اور گولی لگنے سے موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئیں۔ بعد میں انہیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔
Published: undefined
ٹورنٹو میں ہندوستانی قونصلیٹ نے بھی ہرسمرت کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ قونصلیٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہمیں ہیملٹن میں ہندوستانی طالبہ ہرسمرت رندھاوا کی موت پر گہرا دکھ ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق وہ ایک معصوم لڑکی تھیں جو فائرنگ کے دوران غلطی سے گولی کا نشانہ بن گئیں۔ قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔ ہم خاندان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس دکھ بھری گھڑی میں ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔‘‘
Published: undefined
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ایک مصروف سڑک پر پیش آیا۔ جائے وقوعہ پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد پتہ چلا ہے کہ ایک نامعلوم شخص کالے رنگ کی مرسڈیز گاڑی سے باہر نکل کر لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلا رہا تھا۔ پولیس نے اب تک ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
موہاک کالج نے بھی واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہرسمرت کی موت ہم سب کے لیے بڑا صدمہ ہے۔ ’’ہم اس دردناک وقت میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
ہرسمرت کے اہل خانہ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کی لاش کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے تمام ضروری کارروائیاں کی جائیں تاکہ وہ اپنی بیٹی کی آخری رسومات انجام دے سکیں۔ یہ واقعہ نہ صرف کینیڈا میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کو ہلا دینے والا ہے بلکہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی سکیورٹی پر بھی کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز