
آئی اے این ایس
قطر سے ایل پی جی لے کر روانہ ہونے والا ہندوستانی جہاز ’نندا دیوی‘ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے گجرات کے کانڈلا بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے ایک دن قبل ’شیوالک‘ نامی جہاز تقریباً 45 سے 46 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر مندرا بندرگاہ پہنچ چکا ہے۔ ان جہازوں کی محفوظ آمد سے حساس سمندری راستے کے ذریعے ایندھن کی سپلائی کو لے کر پیدا ہونے والی تشویش میں کمی آنے کی امید کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
اس سے پہلے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کی وزارت کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بین وزارتی بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد ٹینکر کامیابی کے ساتھ کھلے سمندر میں داخل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شیوالک‘ اور ’نندا دیوی‘ نامی دو ہندوستانی ایل پی جی جہاز مجموعی طور پر تقریباً 92 ہزار 700 میٹرک ٹن ایل پی جی ملک لا رہے ہیں۔ یہ دونوں جہاز سرکاری ملکیت والی شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے تحت کام کر رہے ہیں۔
Published: undefined
راجیش کمار سنہا نے یہ بھی واضح کیا کہ خلیجی خطے میں کام کر رہے تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں کل 22 ہندوستانی جہاز موجود تھے جن پر 611 ملاح سوار تھے۔ تمام جہاز اور ان کے عملے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
مزید برآں متحدہ عرب امارات سے تقریباً 81 ہزار ٹن خام تیل لے کر آنے والا جہاز ’جگ لاڈکی‘ بھی مندرا بندرگاہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے اور اس کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستانی جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Published: undefined
یہ امر قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی طرح کی کشیدگی عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ ملک کے بڑے بندرگاہ جہازوں کی آمد و رفت اور مال برداری کے نظام پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور شپنگ کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined