کولکاتا گودام حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوئی، دوسرے روز بھی ملبے تلے پھنسے مزدوروں کو نکالنے کی کارروائی جاری

زیرِ تعمیر گودام کی چھت گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی، جبکہ 20 افراد زخمی ہیں۔ ملبے میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے دوسرے روز بھی بچاؤ کارروائی جاری ہے، تاہم بارش سے مشکلات بڑھ گئی ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

کولکاتا کے تاراتلہ علاقے میں زیرِ تعمیر گودام کی چھت گرنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہو گئی ہے، جبکہ 20 افراد زخمی ہیں۔ بدھ کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد جمعرات کو بھی ملبے میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر بچاؤ کارروائی جاری رہی، تاہم شدید بارش اور آسمانی بجلی کے باعث امدادی کام متاثر ہوئے۔

حادثہ ایک 3 منزلہ زیرِ تعمیر گودام میں پیش آیا، جہاں چائے کے گودام کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ حادثے کے وقت تقریباً 40 مزدور عمارت میں کام کر رہے تھے کہ اچانک اس کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے۔ امدادی ٹیموں نے کئی افراد کو زندہ نکال لیا، تاہم اب تک 11 مزدوروں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 20 افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ دوسری جانب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بھی کئی مزدور ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ خراب موسم، موسلا دھار بارش اور آسمانی بجلی کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں، لیکن کارروائی روکے بغیر جاری رکھی گئی۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے بدھ کی شام جائے حادثہ اور اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر مزدور ریاست بہار سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت زخمیوں کے علاج اور امدادی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔


حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کولکاتا پولیس نے خفیہ محکمہ کے ایک معاون پولیس کمشنر کی سربراہی میں سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم کو عمارت کی تعمیر، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

پولیس نے ازخود مقدمہ درج کرتے ہوئے تعمیراتی کام سے وابستہ سپروائزر سمیت سات افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں تعمیراتی ضابطوں، حفاظتی انتظامات اور کام کے معیار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی کی لاپروائی اس بڑے حادثے کا سبب بنی یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق بندرگاہ کی یہ زمین ایک نجی ادارے نے 30 برس کے لیے لیز پر حاصل کی تھی، جہاں چائے کا گودام تعمیر کیا جا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ ملبہ ہٹانے اور لاپتا مزدوروں کی تلاش کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔