
ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس / DrNareshkr@
نئی دہلی: دہلی کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ایران پر ہوئے حملہ کے پیش نظر مختلف اخبارات میں شائع سونیا گاندھی کے مضمون کا خیرمقدم کیا ہے، اور کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو 3 دن گزر جانے کے باوجود حکومت ہند کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہ آنا نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف ہندوستان کی روایتی دوستی اور سفارتی ذمہ داریوں کے برعکس ہے بلکہ اس سے علاقائی استحکام پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات ہمیشہ سے دوستانہ اور مضبوط رہے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب مسئلہ کشمیر پر ایران نے کھل کر ہندوستان کی حمایت کی تھی۔ اسی طرح دفعہ 370 ہٹائے جانے کے معاملہ میں بھی ایران نے متوازن اور مثبت مؤقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے تعاون پر مبنی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ہند کو ہر اہم بین الاقوامی واقعہ پر واضح اور بروقت رد عمل دینا چاہیے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طور پر پڑوسی ممالک کے مفادات اور طویل مدتی تعلقات کو سامنے رکھ کر تشکیل دی جاتی رہی ہے۔ ایران ہمارے لیے ایک اہم پڑوسی ملک کی مانند ہے، جس کے ساتھ ہمارے ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی تعلقات نہایت قدیم ہیں۔ ایسے میں اس سنگین واقعہ پر حکومت ہند کا واضح اور متوازن مؤقف سامنے لانا نہ صرف سفارتی ضرورت ہے بلکہ عالمی اور علاقائی ذمہ داری بھی ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں واضح کیا ہے کہ کسی اہم بین الاقوامی واقعہ پر خاموشی اختیار کرنا غیر جانبداری نہیں کہلا سکتا۔ انہوں نے اسے ذمہ داری سے پیچھے ہٹنا قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے جمہوری ملک کو اپنے اصولوں، بین الاقوامی فرائض اور عالمی ذمہ داریوں کے مطابق واضح مؤقف اپنانا چاہیے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں شفافیت اور بروقت مکالمے کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی واقعات پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے نہ صرف ہمارے دوست ممالک کے ساتھ اعتماد مضبوط ہوتا ہے بلکہ ہندوستان کی عالمی شبیہ ایک ذمہ دار اور فعال جمہوریت کے طور پر ابھرتی ہے۔ ایسے میں ایران میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ پر ہندوستان کا متوازن، حساس اور فوری رد عمل ضروری تھا، تاکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون پر کسی بھی طرح کا منفی اثر نہ پڑے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز