
تصویر اے آئی
ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ ہم کس ملک سے اور کس قیمت پر خام تیل (کروڈ آئل) خرید رہے ہیں۔ اس تعلق سے مئی ماہ میں ایک ایسی بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جس نے پوری دنیا کی تیل مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ جو امریکہ اور سعودی عرب جیسے ممالک، جو کل تک ہندوستان کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرتے تھے، وہ اب پیچھے رہ گئے ہیں۔
Published: undefined
دراصل وینزویلا ہندوستان کو خام تیل سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے۔ اس لاطینی امریکی ملک نے سعودی عرب اور امریکہ جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اس دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پرائیویٹ اور ملکی ریفائنری کمپنیوں، خاص طور پر ریلائنس انڈسٹریز نے سستے اور بھاری درجے کے وینزویلا خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے پورا منظرنامہ بدل گیا ہے۔
Published: undefined
توانائی کارگو ٹریکر ’کیپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا نے مئی ماہ میں اب تک ہندوستان کو روزانہ 4 لاکھ 17 ہزار بیرل خام تیل فراہم کیا ہے۔ اگر اس کا موازنہ گزشتہ ماہ اپریل سے کیا جائے تو اس وقت یہ سپلائی صرف 2 لاکھ 83 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ یعنی صرف 20 دنوں میں وینزویلا سے آنے والے تیل میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال مسلسل 9 ماہ تک ہندوستان نے وینزویلا سے ایک قطرہ تیل بھی نہیں خریدا تھا۔ اس سال جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے چند ہفتوں بعد امریکہ نے وہاں سے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی، جس کے بعد گزشتہ ماہ سے سپلائی دوبارہ شروع ہوئی اور اب یہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
Published: undefined
اس پورے معاملے میں سعودی عرب کو بڑا دھچکا لگا ہے، جو کبھی ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہوا کرتا تھا۔ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے تک ہندوستان سعودی عرب سے بڑی مقدار میں تیل خرید رہا تھا۔ لیکن مئی میں سعودی عرب سے آنے والا تیل کم ہو کر صرف 3 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ رہ گیا، جبکہ اپریل میں یہ 6 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھا۔
Published: undefined
’کیپلر‘ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے تیل کی قیمتیں کافی زیادہ رکھی تھیں، جس کے باعث ہندوستانی خریداروں نے اس سے دوری اختیار کر لی اور سستے وینزویلا خام تیل کو ترجیح دی۔ عام آدمی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہندوستانی ریفائنری کمپنیاں جہاں بھی کم قیمت میں بہتر سودا ملے گا، وہیں کا رخ کریں گی تاکہ ملک میں ایندھن کی لاگت کو قابو میں رکھا جا سکے۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ وینزویلا کا خام تیل نسبتاً بھاری اور زیادہ سلفر والا ہوتا ہے۔ اسے صاف کرنا ہر ریفائنری کے بس کی بات نہیں۔ کیپلر کے چیف ریفائننگ تجزیہ کار نکھل دوبے کے مطابق ہندوستانی خریدار ہمیشہ سے وینزویلا کے تیل میں دلچسپی رکھتے رہے ہیں کیونکہ یہ معاشی لحاظ سے کافی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، ہندوستان کی سرکاری اور دیگر چھوٹی ریفائنریاں اس بھاری درجے کے تیل کو محدود مقدار میں ہی پروسیس کر سکتی ہیں۔ لیکن ریلائنس انڈسٹریز کی گجرات میں واقع جدید اور پیچیدہ ریفائنری کے لیے یہ تیل بالکل موزوں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریلائنس نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور سستے خام تیل کا ذخیرہ بڑھا لیا۔
Published: undefined
اگر ہندوستان کی مجموعی تیل درآمدات کی بات کریں تو مئی میں ماہانہ بنیاد پر اس میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 4.9 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گیا۔ پھر بھی یہ فروری کے 5.2 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے، کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری ایران جنگ نے بحری راستوں اور شپمنٹ کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ امریکہ نے اپریل میں ایران پر سے بھی پابندیاں ہٹا دی تھیں، جس کے بعد ہندوستان نے 7 سال بعد وہاں سے تیل درآمد کیا تھا، لیکن امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث مئی میں ایران سے ایک بھی جہاز ہندوستان نہیں پہنچ سکا۔
Published: undefined
دوسری طرف آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے اپریل میں عراق سے آنے والا تیل تقریباً رک گیا تھا، تاہم مئی میں کچھ راحت ملی اور عراق سے روزانہ 51 ہزار بیرل تیل ہندوستان پہنچا، جبکہ فروری میں یہ مقدار 9 لاکھ 69 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ اس پورے بحران کے دوران روس اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بعد اب وینزویلا ہندوستان کی توانائی سلامتی کا ایک مضبوط ستون بن کر سامنے آیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined