قومی خبریں

بجٹ اجلاس: انڈیا بلاک کی حکمت عملی طے، مغربی ایشیا کی جنگ اور تیل کے معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری

انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے مشترکہ حکمت عملی پر غور و خوض کرتے ہوئے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے دوران مغربی ایشیا کی جنگ، تیل کی خریداری اور توانائی سلامتی پر حکومت سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی این سی</p></div>

تصویر آئی این سی

 

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک نے اپنی پارلیمانی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں پیر کو نئی دہلی میں اپوزیشن رہنماؤں کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھائے جانے والے اہم مسائل اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں راجیہ سبھا میں قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پرمود تیواری شریک ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار دھڑا) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے سنجے راؤت، سی پی آئی (ایم) کے جان بریٹس سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔

Published: undefined

میٹنگ میں طے کیا گیا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مغربی ایشیا کی جاری کشیدگی، تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ہندوستان کی توانائی سلامتی کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھائے گی۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ خطے کی بدلتی صورتحال کا براہ راست اثر ہندوستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے، اس لیے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بیان دینے والے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان کے بعد تفصیلی بحث کرانے اور حکومت سے مختلف سوالات کے جواب طلب کرنے کی تیاری کی ہے۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو ایسے اہم عالمی معاملے پر بحث کا موقع ملنا چاہیے تاکہ حکومت کی پالیسی اور موقف واضح ہو سکے۔

Published: undefined

اسی سلسلے میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک کا نوٹس بھی دیا ہے۔ انہوں نے اس نوٹس میں کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث ہندوستان کو توانائی سلامتی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی کشیدگی کا اثر نہ صرف تیل کی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے بلکہ اس کے اقتصادی اور تزویراتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

اپوزیشن نے امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روسی خام تیل خریدنے کے لیے دی گئی 30 دن کی اجازت کے معاملے کو بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے مختلف پہلو ہیں اور حکومت کو اس بارے میں واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ پیر سے شروع ہو چکا ہے اور یہ دو اپریل تک جاری رہے گا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی اور مالی امور سمیت مرکزی بجٹ 2026-27 سے متعلق مختلف معاملات پر کارروائی متوقع ہے۔ یہ اجلاس 28 جنوری کو صدر کے مشترکہ خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر 65 دن کے دوران تقریباً 30 نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

پارلیمنٹ کے اس مرحلے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال، توانائی سلامتی اور دیگر قومی و بین الاقوامی مسائل پر تیز بحث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined