
وزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی / آئی اے این ایس
تلنگانہ اسمبلی میں ایک تاریخی فیصلہ لیا گیا، جس کا ریاست کی دیہی سیاست پر گہرا اثر پڑے گا۔ انسویا سیتاکا کی قیادت میں ریاستی حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے 2 بچوں والی پالیسی کو ختم کرنے کا بل منظور کرا لیا ہے۔ تلنگانہ میں اب 2 سے زائد بچے والے لوگوں کو بھی انتخاب لڑنے کا حق حاصل ہوگا۔ یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کیونکہ پہلے تلنگانہ پنچایت راج ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کے لیے پنچایت، منڈل یا ضلع پریشد کا انتخاب لڑنے کے لیے یہ لازمی تھا کہ اس کے 2 سے زائد بچے نہ ہوں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ انتخاب لڑنے سے متعلق مذکورہ اصول کے تحت ہزاروں اہل اور قابل رہنماؤں کو انتخابی میدان میں اترنے سے محروم رہنا پڑتا تھا۔ حالانکہ آئندہ پنچایت انتخاب کے پیش نظر حکومت پہلے ایک آرڈیننس لائی تھی، جسے اسمبلی میں باقاعدہ بل کی شکل دے کر قانونی طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
Published: undefined
اس موقع پر پنچایت راج کی وزیر انسویا سیتاکا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی آواز کو طاقت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس ترمیم کے بعد اب 2 سے زیادہ بچوں کی پرورش کرنے والے لوگ بھی پنچایت، منڈل اور ضلع پریشد کے انتخابات لڑنے کے لیے مکمل طور پر اہل ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کا مقصد جمہوری نمائندگی کے دائرے کو وسیع کرنا ہے، تاکہ کوئی بھی معاشرہ یا طبقہ سیاسی عمل سے الگ تھلگ نہ رہ جائے۔
Published: undefined
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے کو ریاست کی سیاست میں عوامی نمائندگی کو فروغ دینے والا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ قانون کئی سماجی گروہوں کے لیے رکاوٹ بنا ہوا تھا، لیکن اب اس رکاوٹ کے ہٹ جانے کے بعد پنچایتی راج نظام میں نئے چہروں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ یہ بل اس وقت منظور ہوا ہے جب ریاست میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہونے والی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined