
سنجے راؤت / آئی اے این ایس
شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راؤت نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان ملک میں ایل پی جی سلنڈر کے بحران کے حوالے سے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں اور ایل پی جی اور ایندھن کی قلت بہت سے شعبوں کو متاثر کر رہی ہے۔
Published: undefined
راؤت نے الزام لگایا کہ کمرشل اور گھریلو گیس کی قلت کی وجہ سے کئی جگہوں پر ریسٹورنٹ اور دیگر صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں، یہاں تک کہ کچھ ریسٹورنٹ بند ہونے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہوئی تھی تب مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ اس کا ہندوستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور قیمتیں بھی نہیں بڑھیں گی لیکن اب صورتحال مختلف نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کی یقین دہانیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔
Published: undefined
سنجے راؤت نے کہا کہ ممبئی اور دیگر شہروں میں گیس کی قلت کی وجہ سے ریسٹورنٹ بند ہونے کی اطلاعات ہیں اور اس سے صنعتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آٹوموبائل سیکٹر کو بھی بحران کا سامنا ہے اور گجرات کے موربی میں ٹائل انڈسٹری پر اثر پڑرہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے حامیوں پر اس مسئلے پر خاموش رہنے کا الزام لگایا۔ راؤت نے وزیر اعظم کے اس بیان پر بھی طنز کیا جس میں نالے سے گیس بنانے کے تجربے کا ذکر کیا گیا تھا اور کہا کہ اگر یہ ممکن ہے تو ممبئی میں اس طرح کے پلانٹ کا افتتاح کیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
شیوسینا لیڈر نے اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ حکومتی دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں نئی نئی خرافات سامنے آتی رہتی ہیں۔ سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ امریکی پریس سکریٹری کے بیان میں ہندوستان کے بارے میں کیا گیا تبصرہ ملک اور وزیر اعظم کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی افسر یہ کہتا ہے کہ ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بیرونی دباؤ میں لینے پڑتے ہیں تو یہ ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے والا بیان ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined