وزیر اعظم کو چائے پلا کر میرا کو کیا حاصل ہوا؟... کرشن پرتاپ سنگھ
میرا کو پہلے سے زیادہ رقم پر پھول خریدنے پڑ رہے ہیں۔ پھولوں کو گھاٹ پر گھوم گھوم کر عقیدتمندوں کو 20-10 روپے میں فروخت کرنے کے لیے بھی انھیں پولیس وغیرہ کو خوش رکھنا پڑتا ہے۔
آپ کو معلوم ہوگا، کوئی 28 ماہ پہلے، 2023 میں 30 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی اپنی خوب تشہیر شدہ ایودھیا یاترا کے دوران اچانک وہاں کے راج گھاٹ واقع کندھرپور محلے کی رہائشی اُجولا یوجنا کی دس کروڑویں مستفید میرا مانجھی کے گھر جا پہنچے تھے۔ قریب بیس پچیس منٹ وہاں ٹھہر کر ان کی بنائی چائے پی (یہ کہتے ہوئے کہ تھوڑی زیادہ میٹھی ہو گئی ہے) تو ان کے خوابوں کو پر لگ گئے تھے اور گودی میڈیا میں ہفتوں اس کی چرچا ہوتی رہی تھی۔ لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے بعد میرا کے خوابوں کا کیا ہوا؟
نہیں معلوم ہوگا، کیونکہ اس کے بعد جو ہوا، اسے بتانے میں اس میڈیا کی زبان کٹتی ہے، اس لیے اس نے بتایا ہی نہیں۔ اتنا بھر بتا کر خاموش ہو گیا کہ وزیر اعظم کی اپنائیت سے ’آہلادِت‘ میرا نے انہیں ’بھگوان‘ کا درجہ دے ڈالا، ان کے ذریعہ جھوٹا کیے گئے کپ کو تاحیات سنبھالے رکھنے کے ارادے سے اسے باعزت پوجا کی جگہ رکھ دیا اور اپنی زندگی بدلنے کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے تک کے خواب دیکھنے لگیں۔
تب ایک نامہ نگار نے یہ تک دعویٰ کیا تھا کہ اپنے گھر میں اپنے ہاتھوں سے وزیر اعظم کو چائے پلا کر میرا نے اپنی ذاتی شناخت کی تسکین بھی محسوس کی اور کہا کہ اس سے بھگوان رام کو ندی پار کرانے والی مانجھی برادری میں ان کا نام تو ہوا ہی ہے، مانجھی برادری کا بھی نام ہوا ہے۔ اس کے کچھ دنوں بعد وزیر اعظم نے انہیں شکریے کا خط اور ’ریٹرن گفٹ‘ بھیجا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے انہیں جن آروگیہ یوجنا کا مستفید بنا دیا تھا، جس سے وہ ایک بار پھر میڈیا کی دلچسپی کا مرکز بن گئی تھیں اور نیوز چینلوں، سوشل میڈیا اور اخباروں میں اپنی چرچا کا بھرپور لطف اٹھایا تھا۔
لیکن اب؟ ہم بتاتے ہیں آپ کو۔ انہیں اور ان کے شوہر کو اس بات کا افسوس ہے کہ وہ سب چار دن کی چاندنی بھر ثابت ہوا۔ اب ان کے خاندان کا پھر اندھیری رات، صاف کہیں تو پہلے سے بھی زیادہ برے دنوں سے سامنا ہے۔ اس ’چار دن کی چاندنی‘ کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ وزیر اعظم کے ان کے گھر آنے سے ایک دن پہلے سرکاری عملے کی طرف سے اچانک اُجولا یوجنا کا رسوئی گیس سلنڈر ان کے گھر پہنچا کر ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ اس سے پہلی بار کیا پکائیں گی؟ جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ روایت کے مطابق پہلے دن کوئی میٹھی چیز یعنی کھیر وغیرہ پکانی چاہیے، لیکن ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے چائے وغیرہ کچھ بھی بنا لیں گی۔
اگلے دن ان سے کہا گیا تھا کہ وہ کھانا پکا لیں، ایک بڑی شخصیت ان کے گھر کھانا کھانے آنے والی ہے۔ اس پر انہوں نے اشتیاق کے ساتھ دال بھات اور سبزی پکا لی اور سوچا تھا کہ روٹی اس شخصیت کے آنے پر سینک لیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے چائے کے لیے دودھ وغیرہ کا انتظام بھی کیا تھا۔ گھنٹے بھر پہلے افسران سیکورٹی جانچ وغیرہ کرنے آئے اور بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود ان کے گھر آ رہے ہیں۔ خوشی کے مارے وہ ایسی ’نہال‘ ہو گئیں کہ وزیر اعظم آئے، کچھ باتیں کیں اور چائے پی کر چلے بھی گئے، لیکن وہ ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہہ پائیں کہ وہ سریو گھاٹ پر واقع نئے گھاٹ پر عقیدت مندوں کو پھول بیچ کر اس سے ہونے والی کمائی سے گزر بسر کرتی ہیں۔ پھول بیچنے کی بات پر وزیر اعظم نے خوش ہو کر کہا تھا کہ اب ایودھیا میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اتنی کہ ان کے پھول کم پڑ جائیں گے اور ان کو ان کے بہت اچھے دام ملنے لگیں گے۔ بعد میں انہوں نے جانا کہ وزیر اعظم کا ان کے گھر آنا ان کے لیے بھلے ہی ’اچانک‘ تھا، سرکاری عملے کے لیے نہیں تھا، کیونکہ وہ مہینوں سے اندر خانے اس کی ’تیاریاں‘ کر رہا تھا۔ ’اُجولا یوجنا‘ کا فائدہ پانے کے لیے ان کے ذریعہ بھرا گیا فارم کئی مہینوں سے ممکنہ طور پر اسی لیے اٹکا رکھا گیا تھا کہ انہیں یوجنا کی دس کروڑویں مستفید بنا کر اس روپ میں پیش کیا جا سکے۔
بہرحال، وزیر اعظم کے جانے کے بعد اسی شام ایودھیا کے ضلع مجسٹریٹ نتیش کمار انہیں جن آروگیہ یوجنا کا آیوشمان کارڈ دینے ان کے گھر آئے تو انہوں نے ان کے سامنے اپنی مشکلات رکھیں۔ یہ مصیبت بھی روئیں کہ ان کے پاس روزی روٹی کا کوئی ٹھیک ٹھاک ذریعہ نہیں ہے۔ آگے بھی نہیں ہوا تو انہیں اُجولا یوجنا کے تحت ملا رسوئی گیس سلنڈر ختم ہونے پر اسے پھر سے بھروانا مشکل ہوگا اور پھر سے بھٹی پر کھانا پکانا پڑے گا۔ اس لیے چاہتی ہیں کہ انہیں سریو کے نئے گھاٹ پر، جہاں وہ ڈلیا میں لے جا کر گھوم گھوم کر پھول بیچتی ہیں، بیچنے کا کوئی مستقل ٹھکانہ اور ان کے شوہر سورج کو کوئی سہولت والی نوکری دے دی جائے۔ یہ بھی کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت انہیں اپنے سر پر چھت تو نصیب ہو گئی ہے، لیکن نہ گھر کی دیواروں پر پلاسٹر ہوا ہے، نہ اس میں بیت الخلا ہی ہے۔ ان کے مطابق ضلع مجسٹریٹ نے ان کی ساری مانگیں پوری کرنے کی حامی تو بھری ہی، ’یہ بھی کر دیں گے، وہ بھی‘ کی طرز پر کئی اور یقین دہانیاں بھی دے ڈالیں۔ پھر تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔
یہ خوشی اور بڑھ گئی، جب مختلف ذرائع ابلاغ کے ملکی و غیر ملکی نمائندے/صحافی ان سے بات کرنے ان کے پاس آنے لگے۔ انہوں نے ان سے بھی اپنی مصیبت روئی اور کہا کہ وزیر اعظم کے سامنے نہیں رو پائی ہیں، اس لیے کرم فرما کر وہ ان کی بات وزیر اعظم تک پہنچا دیں۔ ان سب نے اس کی حامی بھری اور انہیں بھرپور یقین دلایا۔ ان کے پوچھنے پر میرا نے یہ بھی بتایا کہ ایودھیا میں ہوئے ’ترقیاتی کاموں‘ سے ایسے لوگوں کی زندگی میں ہی ’بدلاؤ‘ آیا ہے، جو پہلے سے کوئی روزگار کرتے آ رہے ہیں یا سہولت اور وسائل سے مالامال ہیں۔ اس کے برعکس روز کنواں کھودنے اور پانی پینے والے خاندانوں کی زندگی میں کچھ خاص نہیں بدلا ہے۔ بھلے ہی مفت راشن مل جاتا ہے، غریبی پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ وہ ابھی بھی اپنے گھر میں بجلی کا محض ایک بلب جلانے پر مجبور ہیں کیونکہ بجلی کا ’بڑا‘ بل نہیں بھر سکتیں۔
لیکن اس کے بعد ان کی کہانی میں ایک بہت بڑا موڑ آ گیا۔ وجہ یہ کہ انہیں اور ان کے شوہر سورج کو دور دور سے ان کے گھر آ رہے صحافیوں کے استقبال و مہمان نوازی کے لیے ہفتوں اپنا کام دھندا چھوڑ کر گھر پر رہنا اور ہزاروں روپے قرض لینا پڑا۔ البتہ، استقبال و مہمان نوازی اور بات چیت کرنے کے بدلے انہیں ہر کسی سے ان کی باتیں اور مانگیں وزیر اعظم تک ضرور پہنچا دینے کے ’پکے‘ وعدے ملے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ضلع مجسٹریٹ سے ملے تھے۔ لیکن نہ کوئی وعدہ ان کے کام آیا، نہ یقین دہانی اور گھوم گھوم کر پھول بیچنے کے ان کے دھندے کی حالت ابھی بھی جوں کی توں ہے۔ اب انہیں پہلے سے سواے ڈیوڑھے دام پر پھول خریدنے پڑ رہے ہیں، جبکہ پھولوں کو پتوں سے بنے ’دونے‘ میں رکھ کر گھاٹ پر اِدھر اُدھر گھوم کر عقیدت مندوں کو دس دس اور بیس بیس روپے میں بیچنے کے لیے بھی انہیں پولیس وغیرہ کو خوش رکھنا پڑتا ہے۔ پھر بھی کئی بار مشتبہ قرار دے کر انہیں وہاں گھومنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس پر مہینے بھر میں اتنی آمدنی بھی نہیں ہوتی کہ ان کی قسمت بدل سکے۔ بات چل جائے تو ان کی مایوسی اس سوال میں بدل جاتی ہے کہ کیا میری یہ مانگ بہت بڑی تھی کہ نئے گھاٹ پر کہیں مجھے اتنی جگہ دے دی جائے، جہاں ایک چوکی رکھ کر اس پر پھول بیچ سکوں؟
ان کے شوہر سورج دیہاڑی مزدوری بھی کرتے ہیں، غوطہ خوری بھی اور کشتی بھی چلاتے ہیں۔ پھر بھی خاندان کی ٹھیک سے گزر بسر نہیں ہو پاتی۔ انتظامیہ ان پر ’بہت‘ مہربان ہوا تو کوئی نوکری یا کام دلانے کے بجائے انہیں کشتی خریدنے کے لیے دو لاکھ اسی ہزار روپے کا قرض دلوا دیا۔ اب اس قرض کی ادائیگی بھی ان پر بھاری پڑ رہی ہے اور بینک سے بار بار ادائیگی کے لیے فون آتے رہتے ہیں۔ لیکن کشتی کے دھندے میں کوئی کمائی ہی نہیں رہ گئی ہے اور کروز اور موٹر بوٹ کے مقابلے میں اس میں کوئی مستقبل ہی نہیں رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق غوطہ خوری سریو میں ہنگامی حالات کے وقت کسی ڈوبتے کو بچانے، کسی کا ڈوبا ہوا کچھ ڈھونڈنے یا عقیدت مندوں کے پھینکے سکے نکالنے بھر کے کام آتی ہے، جبکہ عقیدت مندوں کی طرف سے سریو میں پھینکے گئے سکے نکالنے کے کام میں حاصل سکوں کو ’ففٹی-ففٹی‘ کرنے کی ’مجبوری‘ ہوتی ہے اور میلوں کے دنوں میں ایک چوتھائی پر ہی اطمینان کرنا پڑتا ہے۔ البتہ، دیگر دنوں میں جتنے سکے سات آٹھ گھنٹوں کی غوطہ خوری میں ملتے ہیں، میلوں کے دوران دو گھنٹوں سے بھی کم میں مل جاتے ہیں۔ لیکن جاڑوں میں یہ کام کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ ندی کے پانی میں کئی کئی گھنٹے تک رہنے پر بیماری پکڑ لیتی ہے اور جتنے سکے ہاتھ نہیں آتے، ان کا کئی گنا علاج میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اب تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کہاں جاؤں اور کس سے مدد مانگوں، جب وزیر اعظم کا ہمارے گھر آنا بھی ہمارے کچھ کام نہیں آیا۔ الٹے ہماری حالت اور خراب ہو گئی اور بچوں کی پرورش و پرداخت کے لالے پڑ گئے۔ ہم نے تو تصور بھی نہیں کیا تھا کہ راجا (وزیر اعظم) اپنی کسی پرجا کے (میرے) گھر چائے پینے آئیں گے، پھر بھی اس کی (میری) حالت جوں کی توں رہ جائے گی۔ اس میں کوئی بہتری ہی نہیں ہوگی۔
