جمہوریت کی اُکھڑتی ہوئی اوپری سطح... ابھے شکلا
انتظامیہ نے ہمارے سماج کو اس حد تک بے رحم بنا دیا ہے کہ اوپری 10 فیصد لوگ صرف اپنی آسائشوں اور مراعات کی فکر کرتے ہیں، جبکہ باقی 90 فیصد لوگوں کو جیسے تیسے گزارا کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ وقت تھوڑا مشکل ہے، تو آئیے اس ہفتہ کا آغاز ایک مشکل سوال سے کرتے ہیں، نیچے دی گئی خبروں میں کیا یکسانیت ہے؟
پچھلے ماہ نوئیڈا میں فیکٹری مزدوروں اور گھریلو کامگاروں کی جانب سے کم از کم اجرت بڑھانے کے مطالبے کو لے کر کیا گیا وسیع احتجاج، جو کئی بار پُرتشدد بھی ہو گیا۔
ایک ہائی کورٹ جج کا اُس معاملے سے خود کو الگ کرنے سے انکار کرنا، جس میں اُس معاملے کے ایک فریق کے لیے اُس جج کے بچے کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مبینہ طور پر اُس جج نے اُس فریق سے جڑی تنظیموں کے ذریعے منعقد پروگراموں میں بھی شرکت کی تھی۔
مغربی بنگال کے ایک ضلع میں ایسے ہزاروں ووٹروں کے ذریعے عدالتی افسران کا گھیراؤ جن کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے تھے۔
مغربی بنگال میں تقریباً 30 لاکھ ووٹرز کا نام ہٹا دیے جانا۔ یہ وہ ووٹر تھے جنہوں نے پچھلے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا اور جن کے پاس تمام ضروری دستاویزات تھے۔ ایسا ایک مبہم، الگورتھم پر مبنی ’منطقی بے ضابطگی‘ کی وجہ سے ہوا، جس کا التزام نہ تو کسی قانون میں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے صوبے میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان 30 لاکھ بدقسمت لوگوں کی زیر التوا اپیلوں پر فیصلہ کیے بغیر ہی انتخابات کروا دینا، اور ووٹ دینے کے اُن کے آئینی حق کے تئیں سپریم کورٹ کی شدید بے حسی، یہ کہنا کہ وہ اگلے انتخابات میں ووٹ دے سکتے ہیں!
اڈیشہ کی ایک عدالت کی جانب سے قبائلی اور دلت ملزمین (جن پر الزام تو تھے، لیکن جنہیں قصوروار قرار نہیں دیا گیا تھا) پر ایک ذات پات پر مبنی ضمانتی شرط تھوپنا (کہ انہیں 2 مہینے تک ہر صبح پولیس تھانوں کی صفائی کرنی ہوگی) جس نے اُن کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی اور قانون کا مذاق بنا دیا۔
راگھو چڈھا کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کے 7 راجیہ سبھا اراکین کا بی جے پی میں شامل ہونا۔
اڈیشہ کے ایک غریب قبائلی کو اپنی مردہ بہن کی لاش بینک تک لے جانے پر مجبور ہونا پڑا، تاکہ وہ اُس کی موت کو ثابت کر سکے اور اُس کے کھاتے میں جمع معمولی رقم، اُس کے وارث کے طور پر اُسے مل سکے۔ اس واقعے نے کے وائی سی (نو یور کسٹمر) کو ’نو یور کارپس‘ میں بدل دیا۔
ایک عدالت کی جانب سے ایک سیاسی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات کو اس بنیاد پر خارج کر دینا کہ اُن کے بیانات نہ تو نفرت پھیلانے والے تھے اور نہ ہی تشدد بھڑکانے والے۔ ان میں سے ایک تقریر میں وہ بدنام نعرہ بھی شامل تھا: ’دیش کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو‘۔ دوسری ایک وزیر اعلیٰ کی ویڈیو تھی، جس میں وہ ایک مسلم شخص کی تصویر والے نشانے پر رائفل تانتے دکھائی دے رہے تھے۔
اوپر جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سیاق، موضوع، اہمیت اور مقام کے لحاظ سے ضرور مختلف ہیں، لیکن اُن سب میں ایک بات مشترک ہے... اُس چیز کا پوری طرح بکھر جانا جو کسی ترقی یافتہ ملک کو ’ترقی یافتہ‘ بناتی ہے۔ یعنی نظم و نسق، عمومی قانون، سماجی اقدار، ہمدردی، قانون کی حکمرانی، حکومت یا اُس کے اداروں پر اعتماد، مساوات کا تصور اور غیر جانب دار انصاف۔
ان سب کو ایک ساتھ دیکھنے پر، یہ ایک ایسی چیز کے ٹوٹنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو ان سب سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، یعنی خود جمہوریت۔ یہ ڈاکٹر امبیڈکر کے اُن دور اندیش اور تنبیہ آمیز الفاظ کو درست ثابت کرتی ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت زمین کی اوپری سطح جیسا ایک نہایت پتلا غلاف محض ہے، جسے آسانی سے اڑا دیا جا سکتا ہے اور اسے کبھی بھی معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
آج کل ملک میں ایک ’شیطانی ہوا‘ چل رہی ہے، جو امبیڈکر کی بچھائی ہوئی اوپری سطح کو ہٹا کر اُس اقتدار کی ہوس، لالچ، مذہبی انتہا پسندی، ذات پات اور تشدد کو ننگا کر رہی ہے، جو ہمیشہ سے ہمارے سماج میں زندہ رہی۔ ہم نے امید کی تھی کہ جمہوری طور پر منتخب ترقی پسند حکومتیں وقت کے ساتھ ہماری تہذیب کی ان برائیوں کو آہستہ آہستہ ختم کر دیں گی اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گی؛ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔
ایک کے بعد ایک حکومتوں نے (اور خاص طور پر پچھلے بارہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی حکومت نے) ان کمزوریوں اور شگافوں کو اور بھی وسیع کیا ہے۔ انہیں قومی (اور یہاں تک کہ بین الاقوامی) پالیسیوں کی بنیاد بنا دیا گیا ہے۔ انہیں قوانین اور تعلیمی نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ اب سرکاری پالیسیوں کے ایسے اوزار بن گئے ہیں جن کے استعمال پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی، اور اب تو انتخابات بھی انہی مسائل کے ایجنڈے پر لڑے جا رہے ہیں۔
راگھو چڈھا کا وفاداری بدلنا اسی شدید زوال کی تصدیق کرتا ہے، کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لبرل پرورش اور لندن کی تعلیم بھی ہندوستانی سیاست کی بے ایمانی اور موقع پرستی سے بچانے میں کوئی ڈھال نہیں بن سکتی۔ ساتھ ہی یہ سیاست دانوں کے تئیں عام لوگوں کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کو بھی درست ثابت کرتا ہے۔
انتظامیہ نے ہمارے سماج کو اس حد تک بے رحم بنا دیا ہے کہ اوپری 10 فیصد لوگ صرف اپنی آسائشوں اور مراعات کی فکر کرتے ہیں، جبکہ باقی 90 فیصد لوگوں کو جیسے تیسے گزارا کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہم دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ملکوں میں سے ایک ہیں، اور ہمیں اس بات پر فخر بھی ہے۔ اس ’چڑیل کے کڑاہے‘ سے جمہوریت جیسی چیز کے نکلنے کی تو گنجائش ہی نہیں ہے۔
ہم نے سادہ لوحی میں یہ امید کی تھی کہ جب انتظامیہ بے لگام ہو جائے گی، تو کم از کم ہماری عدلیہ اُسے قابو میں کرے گی اور قانون کی حکمرانی کو محفوظ رکھے گی۔ لیکن ہماری وہ امید جھوٹی ثابت ہوئی اور اب خاک میں مل چکی ہے، جیسا کہ اوپر بیان کیے گئے کچھ واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ آج ہم ایمرجنسی کے دنوں والے اے ڈی ایم، جبل پور والے دور سے بھی نیچے گر چکے ہیں۔ تب کم از کم آئینی طور پر جائز ایمرجنسی تو نافذ تھی۔ آج تو ہمارے پاس حکومت کی طاقت حاصل کرنے کی مطلق العنان ننگی دوڑ کو چھپانے کے لیے وہ دکھاوا بھی باقی نہیں بچا۔
آج ہر دن ہمیں ہزاروں عدالتی ضربیں جھیلنی پڑ رہی ہیں، چاہے وہ ضمانت نہ دینا ہو، مجسٹریٹس کی ناک کے نیچے انتخابات کو چوری ہونے دینا ہو، کسی خاص نظریے کے مطابق ’نفرت‘ کی تعریف بدلنا ہو، جواب دہی کے کسی بھی تصور کو مسترد کر دینا ہو، یا پھر عدالتی اقدار کی کسی بھی بحالی سے منہ موڑ لینا ہو۔
صرف آئین ہی کسی جمہوریت کی تشکیل نہیں کر سکتا، نہ ہی یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ جمہوریت زندہ رہے۔ ایسا ہونے کے لیے اوپری مٹی کی دیکھ بھال انتہائی احتیاط سے کرنی ہوگی۔ اس میں غذائیت ڈالنی ہوگی اور انہیں محفوظ رکھنا ہوگا۔ ساتھ ہی نقصان دہ جراثیم اور جڑی بوٹیوں کو اُس سے دور رکھنا ہوگا۔ اس کے مالی ایسے لوگ ہونے چاہیئں جو علم اور حساسیت سے بھرپور ہوں، ایسے لوگ جو اپنے کام سے محبت کرتے ہوں، نہ کہ ایسے کرائے کے ٹٹو ہوں جو صرف زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی فکر میں رہتے ہوں۔
افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری زمین کے اس ٹکڑے پر کرائے کے لوگوں اور موقع پرستوں کا قبضہ ہے۔ اوپری مٹی کا جو کچھ بھی حصہ بچا ہے، وہ بھی جلد ہی اڑ جائے گا۔ پیچھے رہ جائے گا ایک ایسا ’تہذیبی صحرا‘، جس کی ان اقتدار کے بھوکے اور لالچی لوگوں اور اُن کے کرائے کے ٹٹوؤں کے علاوہ کسی اور کے لیے کوئی قدر نہیں ہوگی۔ وہ ایک بنجر زمین پر حکومت کریں گے، لیکن جیسا کہ ملٹن کی تخلیق ’پیراڈائز لاسٹ‘ میں شیطان نے سوچا تھا: ’جنت میں نوکری کرنے سے تو بہتر ہے کہ جہنم میں حکومت کی جائے۔‘
