
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں رواں سال اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے۔ ایسے میں سیاسی تبصروں کا دور جاری ہے۔ جہاں ایک طرف ریاست میں ایس آئی آر عمل کے تحت ووٹر لسٹ کو درست کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی ٹیم گراؤنڈ پر ہے تو اس کی مخالفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایسے میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے مجاہد آزادی اور آزادی کی لڑائی میں اہم کردار ادا کرنے والے سبھاش چندر بوس کے پوتے چندر کمار بوس اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایس آئی آر سے متعلق ایک سماعت میں پیش ہوئے تھے۔ اب اس پر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا بیان سامنے آیا ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اگر سبھاش چندر بوس آج زندہ ہوتے تو کیا انہیں بھی سماعت کے لیے بلایا جاتا؟ یا انہیں بھی ’منطقی تضاد‘ بتا کر طلب کیا جاتا۔ کیا وہ ان سے پوچھتے کہ وہ ہندوستانی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے پہلے ہی چندر بابو (چندر کمار بوس) کو بلایا ہے۔ انہیں سماعت کے لیے بلایا گیا۔ ان کے نام لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 38 ہزار لوگوں کو بلایا ہے۔ اس سے قبل 58 لاکھ لوگوں کے نام سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ یہ یکطرفہ کارروائی ہے۔ یاد رکھیں مجموعی تعداد 2 کروڑ ہیں۔ اگر 7 کروڑ میں سے 2 کروڑ لوگوں کے نام ہٹا دیے جاتے ہیں تو کتنے لوگ اپنے حقوق کھو دیں گے؟
Published: undefined
واضح رہے کہ ایس آئی آر کے متعلق اس وقت ہنگامہ شروع ہوا جب سبھاش چندر بوس کے پوتے چندر کمار بوس اور ان کے اہل خانہ کو اس عمل میں سماعت کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہ پیر کو پیش بھی ہوئے تھے۔ اس دوران انہوں نے ایس آئی آر عمل پر سوال اٹھائے۔ ساتھ ہی کہا کہ یہ عمل اہم ہے۔ اسے طریقے سے نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس میں وضاحت کی کمی ہے۔
Published: undefined
چندر کمار بوس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اور ان کے اہل خانہ کے اراکین نے اپنے فارم کے ساتھ تمام ضروری دستاویز جمع کر دیے تھے۔ پھر بھی ہمیں سماعت کے لیے بلایا گیا۔ اس کی وجہ انتہائی حیران کن تھی، کیونکہ پولنگ افسران نے کہا کہ ڈیٹا کو جوڑنے میں مسئلہ تھا۔ میں اس لیے شکایت نہیں کر رہا ہوں کہ مجھے ایس آئی آر کے لیے بلایا گیا تھا، بلکہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ پورا عمل انتشار کا شکار ہے اور بغیر کسی وضاحت کے ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز