
علامتی تصویر / اے آئی
ہندوستان ہر سال 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔ یہ دن 26 جنوری 1950 کو دستور کے نفاذ اور ہندوستان کے ایک آئینی جمہوریہ بننے کی یاد دلاتا ہے۔ اسی لیے یومِ جمہوریہ دراصل اُن آئینی مقاصد، وعدوں اور شہری حقوق کے جشن کا موقع ہونا چاہیے جو جمہوریہ کے کردار اور اس کی سمت کا تعین کرتے ہیں اور جن کا اعلان ’ہم، ہندوستان کے لوگ‘ کے ذریعے کیا گیا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یومِ جمہوریہ محض ریاستی طاقت کی نمائش بن کر رہ گیا ہے۔ پریڈ اب ریاست کی معاشی اور فوجی قوت کے اظہار اور سرکاری اسکیموں کی تشہیر کا پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مودی کے دور میں، جب دستور پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور بڑی تعداد میں شہریوں کے ووٹ کے حق کے چھننے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے، تب بھی ہمارے پاس دستور اور ووٹر کا جشن منانے کے لیے دو الگ الگ دن موجود ہیں۔ 26 نومبر کو یومِ دستور منایا جاتا ہے تاکہ 1949 میں دستور ساز اسمبلی کی جانب سے دستور کو اپنانے کی سالگرہ منائی جا سکے، اور 25 جنوری کو قومی یومِ رائے دہندہ منایا جاتا ہے تاکہ 1950 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قیام کی یاد تازہ کی جا سکے۔
Published: undefined
دستور کی تمہید ہندوستان کو ایک ’خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوریہ‘ قرار دیتی ہے۔ سنگھ-بی جے پی حکومت ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ جیسے الفاظ کو ہٹانا چاہتی ہے۔ بظاہر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ الفاظ اصل تمہید میں شامل نہیں تھے اور ایمرجنسی کے دوران متنازعہ 42ویں ترمیم کے ذریعے جوڑے گئے تھے۔
یہ بات درست ہے کہ یہ الفاظ ابتدا میں تمہید کا حصہ نہیں تھے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ڈاکٹر امبیڈکر یا دستور ساز اسمبلی سوشلزم یا سیکولرازم کے نظریات کے مخالف تھے۔ اس کے برعکس، امبیڈکر نے واضح طور پر کہا تھا کہ سوشلزم اور سیکولرازم کے اصول دستور کے اصل متن میں پہلے سے شامل ہیں۔ تمہید کو مختصر رکھنے کے لیے ہی ’خودمختار‘ اور ’جمہوری‘ جیسے الفاظ کو جمہوریہ کی بنیادی خصوصیات کے اظہار کے لیے کافی سمجھا گیا تھا۔
Published: undefined
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 1977 میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد، جنتا پارٹی حکومت نے 44ویں ترمیم کے ذریعے 42ویں ترمیم کی بیشتر شقوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا تھا۔ اس وقت بھارتیہ جن سنگھ (جو آج کی بی جے پی کی پیش رو تھی) جنتا پارٹی کا حصہ تھی، اور اٹل بہاری واجپئی اور ایل کے آڈوانی دونوں مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر تھے۔ اس کے باوجود 44ویں ترمیم کے دوران بھی تمہید سے ’سوشلزم‘ اور ’سیکولر‘ الفاظ نہیں نکالے گئے۔
اگر آج بی جے پی ان الفاظ کو ہٹانے پر اس قدر بضد ہے تو اس کی وجہ یقیناً سنگھ پریوار کی سوشلزم اور سیکولرازم کے نظریات سے بنیادی نظریاتی دشمنی ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ سنگھ نے دستور کے نفاذ کے وقت سے ہی اس کی مخالفت کی تھی۔ سنگھ کے مطابق دستور ایک ’غیر ہندوستانی‘ دستاویز ہے، کیونکہ یہ ’منوسمرتی کے ہندوستانی نظریات‘ پر مبنی نہیں ہے۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سردار پٹیل کی جانب سے لگائی گئی پابندی سے بچنے کے لیے سنگھ کو دستور کو قبول کرنے کا تحریری وعدہ کرنا پڑا تھا۔
Published: undefined
آج ہم ایک سنگین تضاد کا سامنا کر رہے ہیں: ہمارے آئینی جمہوریہ کو وہ طاقتیں چلا رہی ہیں جو نظریاتی طور پر دستور کے بنیادی اصولوں اور اس کی روح کی دشمن ہیں۔
دستور کو اپناتے وقت باباصاحب امبیڈکر نے خبردار کیا تھا کہ اگر اچھا دستور بھی برے ہاتھوں میں چلا جائے تو وہ تباہ کن نتائج دے سکتا ہے۔ انہوں نے دستور کی ساختی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں جمہوریت ایک غیر جمہوری سماجی زمین پر قائم ایک پتلی سی بالائی تہہ ہے۔
امبیڈکر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر سماجی اور معاشی عدم مساوات کو ختم نہ کیا گیا تو ’ایک ووٹ، ایک قدر‘ کا اصول بے معنی ہو جائے گا۔ آج یہی اصول خود شدید خطرے میں ہے، کیونکہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر لاکھوں شہریوں کو پہلے ہی حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا چکا ہے۔
Published: undefined
اب تک پارلیمانی جمہوریت، وفاقی ڈھانچہ اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہندوستانی جمہوریت کی عملی بنیاد رہی ہے۔ لیکن جیسے جیسے طاقت انتظامیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے، ویسے ویسے مقننہ اور عدلیہ کا کردار کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
ریاستوں کے وفاقی اختیارات میں مسلسل مداخلت اور ہندوستان کی ثقافتی تنوع کو ایک مرکزی، یکساں اور معیاری سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں قومی اتحاد کی بنیاد کو کمزور کر رہی ہیں۔
جب چھتیس گڑھ کے ایک ہندی بولنے والے مہاجر مزدور کو ’بنگلہ دیشی درانداز‘ ہونے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے، جب تریپورہ کے ایک آدیواسی طالب علم کو اتراکھنڈ میں اس کے مبینہ ’چینی حلیہ‘ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جب کرسمس تقریبات پر حملے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیا جاتا ہے، تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر میں بدلنے کی سنگھ-بی جے پی مہم کس قدر تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔
Published: undefined
اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے سے حاصل کی گئی خودمختاری بھی خطرے میں ہے۔ جس طرح ہندوستانیوں کو ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر امریکی سرزمین سے نکالا جا رہا ہے، جس طرح روس سے تیل خریدنے یا ایران سے لین دین کرنے پر ہندوستانی اشیا اور خدمات پر تعزیری ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں، وہ ہندوستان کی خودمختاری کے خطرناک زوال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس کے باوجود خارجہ پالیسی میں مودی حکومت امریکی سامراج اور ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کی شرمناک روش پر گامزن ہے۔
جب جمہوریہ ہر سمت سے کمزور کی جا رہی ہو تو شہریوں کی روزی روٹی اور آزادی بھی محفوظ نہیں رہتی۔ شہریت ترمیمی قانون شہریوں کو پناہ گزین بنا دیتا ہے، ایس آئی آر انہیں مشکوک درانداز قرار دے کر ووٹ کا حق چھین لیتا ہے اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین اختلاف کرنے والے شہریوں کو بغیر مقدمہ برسوں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔
Published: undefined
جو شہری احتجاج کی ہمت کرتا ہے اسے ہر ممکن طریقے سے کمزور کیا جاتا ہے، جب کہ ہجومی تشدد کو بڑھاوا دیا جاتا ہے، مجرموں کو سزا سے بچایا جاتا ہے اور عصمت دری و قتل کے مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دلدل سے جمہوریہ کو کیسے نکالا جائے؟ ایسے کٹھن وقت میں جمہوریہ کی روح اور اس کی اصل سمت کو کیسے بحال کیا جائے؟ کارپوریٹ قبضے اور فاشسٹ غلبے کو کیسے روکا جائے؟
جمہوریہ کی چھہترویں سالگرہ پر یہی وہ بڑے چیلنج ہیں جو ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ آسان جوابات نہیں ہیں، لیکن جس قوم نے برطانوی سامراج سے آزادی چھینی، وہ یقیناً سامراجی لوٹ اور آمرانہ بدمعاشی کے اس دور سے بھی راستہ نکال لے گی۔ ہم، ہندوستان کے لوگ، جن کے پاس ہندوستان کو ایک خودمختار، سماج وادی، سیکولر، جمہوریہ قرار دینے کی طاقت تھی، انہی پر اسے بچانے، فاشزم کو شکست دینے اور آگے لے جانے کی ذمہ داری بھی ہے اور اس کی طاقت بھی۔
(مضمون نگار دیپناکر بھٹاچاریہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ-لیننسٹ) لبریشن کے قومی جنرل سکریٹری ہیں)
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز