علاقائی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور خطے کی بگڑتی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال اور حالیہ کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات، سکیورٹی کی صورت حال اور اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایران کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں اور خطے میں حالیہ واقعات کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے اہم اور حساس ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے گفتگو کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی کی بگڑتی صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنازع یا مسئلے کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے اس مستقل مؤقف کو بھی دہرایا کہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران سمیت پورے خطے میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بہبود ہندوستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح مستعد ہے کہ خطے میں موجود ہندوستانی شہری محفوظ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ان کی مدد کی جا سکے۔


گفتگو کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے توانائی اور اشیا کی بلا رکاوٹ ترسیل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت متاثر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کا اثر عالمی معیشت اور کئی ممالک کی ضروریات پر پڑ سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ چیلنجوں کے باوجود سفارتی کوششوں کے ذریعے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور خطے میں امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔