قومی خبریں

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، نابینہ شخص کو بھی جج بننے کا حق حاصل

جسٹس مہادیون نے کہا، " جوڈیشیل سروس ایکٹ 1994 کے قانون 6 اے کو خارج کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کم روشنی والے اور نابینہ امیدواروں کو عدالتی سروس میں تقرری سے باہر رکھتا ہے۔"

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا /آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا /آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے پیر کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ نابینہ لوگ بھی جج بن سکتے ہیں۔ معذوروں کے حقوق کو لے کر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نظام انصاف کو زیادہ جامع اور سہل بنانا ہے۔ ایسے میں نابینہ لوگوں کو جج بننے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے ایک قانون کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ نابینہ لوگ بھی جوڈیشیل امتحان میں حصہ لینے کے حقدار ہیں۔ اس پیشہ میں کچھ کم صلاحیت کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

Published: undefined

جسٹس جے بی پاردیوالا اور آر مہادیون کی بنچ نے کہا کہ میڈیکل ماہرین کے ذریعہ کیے گئے کلینکل اسسٹمنٹ کسی معذور شخص کو اس کے حقوق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ بنچ نے آنکھوں میں خرابی اور نابینہ امیدواروں کو جوڈیشیل سروس میں تقرری سے باہر رکھنے والے مدھیہ پردیش جوڈیشیل سروس ایکٹ کے شرائط کے حصہ کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ وہ (نابینہ اور کمی روشنی والے) ہندوستان کی جوڈیشیل سروس میں تقرری کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔

Published: undefined

بنچ کی طرف سے فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس مہادیون نے کہا، "مدھیہ پردیش جوڈیشیل سروس ایکٹ 1994 کے قانون 6اے کو خارج کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کم روشنی والے اور نابینہ امیدواروں کو عدالتی سروس میں تقرری سے باہر رکھتا ہے۔

Published: undefined

بنچ نے کئی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد کہا کہ معذور لوگوں کے حقوق ایکٹ،2016 کے مطابق ان کی اہلیت کا جائزہ کرتے وقت انہیں مناسب سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ بنچ نے کہا کہ معذور لوگوں کو جوڈیشیل سروس کی بھرتی میں کسی بھی طرح کے امتیاز کا سامنا نہیں کرنا چاہیے اور ریاست کو جامع ڈھانچہ یقینی کرنے کے لیے انہیں مثبت کارروائی فراہم کرنی چاہیے۔ بنچ نے فیصلہ میں آگے کہا کہ وہ آئینی ڈھانچے اور ادارہ جاتی نا اہلیت ڈھانچے سے نپٹتا ہے اور اس معاملے کو سب سے اہم تصور کرتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined