قومی خبریں

’ہندو مذہب‘ زندگی جینے کا ایک طریقہ ہے، عقیدہ ثابت کرنے کے لیے مندر جانا لازمی نہیں: سپریم کورٹ

چیف جسٹس سوریہ کانت نے سبریمالہ مندر معاملہ پر سماعت کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی جھونپڑی میں بھی دِیا جلاتا ہے تو یہ اس کے مذہب کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

مذہبی آزادی اور خواتین کے مذہبی مقامات میں داخلے سے متعلق معاملات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 13 مئی کو ہندو مذہب کے حوالے سے ایک اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ہندو بنے رہنے کے لیے مندر جانا یا کسی خاص مذہبی رسم کو ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر ’دیا جلانا‘ بھی کسی کے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہندو مذہب صرف طریقۂ عبادت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی، یعنی زندگی جینے کا طریقہ ہے۔ کسی شخص کے ہندو بنے رہنے کے لیے مندر جانا یا مذہبی رسوم ادا کرنا لازمی نہیں ہے۔

Published: undefined

یہ تبصرہ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی 9 ججوں کی آئینی بنچ نے کیا۔ یہ بنچ سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے، مذہبی آزادی اور مختلف مذاہب میں رائج روایات سے متعلق معاملات کی سماعت کر رہی ہے۔ بنچ میں جسٹس بی وی ناگرتنا، ایم ایم سندریش، احسان الدین امان اللہ، اروند کمار، آگسٹین جارج مسیح، پرسنّا بی ورالے، آر مہادیون اور جوئے مالیا باغچی بھی شامل ہیں۔

Published: undefined

آج ہوئی سماعت کے دوران مداخلت کار کی جانب سے پیش سینئر وکیل ڈاکٹر جی موہن گوپال نے کہا کہ مذہبی برادریوں کے اندر سے سماجی انصاف کا مطالبہ مسلسل اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے 1966 کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت نے ’ہندو‘ کی تعریف ایسے شخص کے طور پر کی تھی جو مذہب اور فلسفے کے معاملات میں ویدوں کو سب سے اعلیٰ مانتا ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آج ہر وہ شخص جسے ہندو مانا جاتا ہے، واقعی ویدوں کو سب سے مستند حیثیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سماج کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور مختلف ہے۔

Published: undefined

وکیل کی دلیل کا جواب دیتے ہوئے جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ ’’اسی وجہ سے ہندو مذہب کو طرز زندگی کہا جاتا ہے۔ کسی ہندو کے لیے مندر جانا یا مذہبی رسومات ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنے عقیدے کا اظہار اپنے طریقے سے کر سکتا ہے اور کسی کو بھی اس کی عقیدت میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی جھونپڑی میں بھی دِیا جلاتا ہے تو یہ اس کے مذہب کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ اس سے پہلے تبصرہ کر چکی ہے کہ اگر لوگ آئینی عدالت کے سامنے ہر مذہبی روایت یا مذہب سے متعلق معاملے پر سوال اٹھانا شروع کر دیں تو سینکڑوں عرضیاں دائر ہوں گی اور اس سے ہر مذہب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined