سبریمالا کیس: مرکز نے عدالت میں مذہبی روایات کے حق میں دلائل پیش کیے

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ سبریمالا معاملہ عقیدے اور روایت سے جڑا ہے۔ مذہبی طریقوں کو عقلیت یا آئینی اخلاقیات کی بنیاد پر جانچنا مناسب نہیں

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق 2018 کے فیصلے پر جاری نظرثانی کی سماعت سے قبل مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا تحریری جواب داخل کیا ہے۔ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف صنفی مساوات کا نہیں بلکہ مذہبی عقیدے اور روایت سے بھی متعلق ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ذریعے داخل کیے گئے حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ مذہبی روایات کو جدیدیت، عقلیت یا سائنسی بنیادوں پر پرکھنا مناسب نہیں ہے۔ حکومت کے مطابق عدالتوں کو مذہب کے داخلی معاملات میں اس نوعیت کی جانچ سے گریز کرنا چاہیے۔

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ کسی مذہبی عمل کو ’ضروری‘ یا ’غیر ضروری‘ قرار دینے کا اختیار متعلقہ مذہبی فرقے کے پاس ہونا چاہیے۔ حکومت کے مطابق اس طرح کے فیصلے روایت، مذہبی متون اور عقیدے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ عدالت صرف اسی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی روایت عوامی نظم، صحت، اخلاقیات یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے۔

مرکز نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ سبریمالا مندر میں بھگوان ایپّا کی پوجا ’نیشٹھک برہمچاری‘ کے طور پر کی جاتی ہے اور خواتین کے داخلے سے متعلق روایت اسی تصور سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق یہ روایت مذہبی عقیدے کا حصہ ہے۔


حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی دیوتا کے اوصاف یا مذہبی تصور کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ دیوتا کے قانونی تشخص کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس تناظر میں متعلقہ مذہبی فرقے کی تشریح کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

مرکزی حکومت نے ’آئینی اخلاقیات‘ کے تصور پر بھی اپنے جواب میں سوال اٹھایا ہے اور اسے ایک عدالتی طور پر وضع کردہ اصطلاح قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس بنیاد پر مذہبی روایات کا جائزہ لینے سے عدالتوں کے دائرہ کار سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں کو اپنے فیصلے آئین، سابقہ نظائر اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ بیرونی مواد جیسے لیکچرز یا مضامین کو فیصلوں کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ مرکزی حکومت کے مطابق سبریمالا سے متعلق معاملہ اب وسیع آئینی سوالات کو بھی شامل کرتا ہے، جن میں مذہبی معاملات میں عدالتی مداخلت کی حدود سے متعلق پہلو بھی شامل ہیں۔