پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی: کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، کہا- ’غلط پالیسیوں سے ہندوستان کی عالمی ساکھ متاثر‘

کھڑگے نے ہندوستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں گراوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی اور پاسپورٹ خدمات بھی مہنگی ہو گئی

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ہندوستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں گراوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کے باعث دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور حکومت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ملکارجن کھڑگے نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سن 2018 کے اس بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیرون ملک سفر کرنے والے اور وہاں مقیم لوگ آج ہندوستانی پاسپورٹ کی طاقت اور عزت کو بخوبی جانتے ہیں۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہے تو اس طاقت کا عملی اظہار کہاں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ دستیاب اعداد و شمار حکومت کے دعووں کی تائید نہیں کرتے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک عالمی پاسپورٹ درجہ بندی کے مطابق سن 2013 میں ہندوستان چوہترویں مقام پر تھا، لیکن جون 2026 تک اس کی درجہ بندی گر کر اسیویں مقام پر پہنچ گئی۔ ان کے مطابق ایک دوسرے عالمی پاسپورٹ اشاریے میں سن 2026 کے لیے ہندوستان کو ایک سو پچیسواں مقام دیا گیا ہے، جو ملک کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔


کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ حکومت نے پاسپورٹ خدمات کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں مزید مہنگا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عام پاسپورٹ کی فیس پندرہ سو روپے سے بڑھا کر ڈھائی ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ تتکال خدمت کی فیس بھی بڑھ کر پانچ ہزار روپے ہو گئی ہے۔

انہوں نے سیاحت کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد اب بھی کووڈ سے پہلے کی سطح تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ ان کے مطابق سن 2019 میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ نو لاکھ تیس ہزار تھی، جو سن 2024 میں کم ہو کر 90 لاکھ پچانوے ہزار رہ گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت اس کمی کو چھپانے کے لیے غیر مقیم ہندوستانیوں کی آمد کو بھی غیر ملکی سیاحوں کے اعداد و شمار میں شامل کر رہی ہے۔

کھڑگے نے سرکاری ویزا درخواست پورٹل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ویب سائٹ آج بھی انتہائی پرانی اور پیچیدہ محسوس ہوتی ہے، جس سے بیرون ملک کے درخواست گزاروں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اتھیتی دیوو بھو‘ جیسے نظریے کی بات کرنے والے ملک میں سیاحوں کے لیے بہتر اور جدید سہولتیں ہونی چاہئیں۔

اپنی پوسٹ کے اختتام پر کانگریس صدر نے کہا کہ اگر پاسپورٹ کی عالمی حیثیت کمزور ہو رہی ہے، سیاحت مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی، ویزا خدمات غیر مؤثر ہیں اور شہریوں کو زیادہ فیس ادا کرنی پڑ رہی ہے تو پھر حکومت جس عالمی احترام کا دعویٰ کرتی ہے، وہ حقیقت میں کہاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ہندوستانی پاسپورٹ کے سرورق اور اس موضوع سے متعلق ایک خبر کی تصویر بھی شیئر کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔