دہلی میں آلودگی میں بہتری موسمی اثرات کا نتیجہ، حقیقی آلودگی اب بھی گزشتہ سال سے زیادہ: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ دہلی میں فضائی معیار میں نظر آنے والی بہتری موسم کی وجہ سے ہے، جبکہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 10 گزشتہ سال سے 15 فیصد، پی ایم 2.5 8 فیصد اور اے کیو آئی 12 پوائنٹس زیادہ ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے خزانچی اجے ماکن / ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے معاملے پر ایک بار پھر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں فضائی معیار میں نظر آنے والی بہتری حکومتی اقدامات کا نتیجہ نہیں بلکہ موسمی حالات کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موسم کے اثرات کو الگ کرکے آلودگی کا جائزہ لیا جائے تو حقیقی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے، جو فضائی آلودگی پر قابو پانے میں پالیسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 5 جولائی صبح 10 بجے سے 6 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 29 جون سے 13 جولائی کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ کا اثر نتائج پر نہ پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ اس بار گزشتہ سال کے مقابلے میں بارش 6.3 ملی میٹر سے کم ہو کر صرف 0.1 ملی میٹر رہ گئی، جس کے باعث فضائی آلودگی کے ذرات مناسب طور پر صاف نہیں ہو سکے۔ اسی دوران ہوا کی رفتار 4.5 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 7.7 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی، جس سے سڑکوں اور تعمیراتی مقامات کی گرد و غبار فضا میں زیادہ پھیل گئی۔ ان کے مطابق آلودگی زیادہ بکھرنے کی وجہ سے ہوا نسبتاً صاف دکھائی دی، لیکن اس سے حقیقی آلودگی میں کمی نہیں آئی۔


اجے ماکن نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 93 ریکارڈ کیا گیا، تاہم موسم کے اثرات الگ کرنے پر یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 پوائنٹس زیادہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق یہی ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور نظر آنے والی بہتری دراصل موسم کی دین ہے، نہ کہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اور پی ایم 2.5 کی سطح آٹھ فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آلودگی کے بنیادی ذرائع پر مؤثر قابو نہیں پایا جا سکا۔

اجے ماکن نے یہ بھی کہا کہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار سے متعلق بین الاقوامی تحقیقات میں پیمائش کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس کے باعث ان کے درج شدہ اعداد و شمار میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ تجزیہ پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مرکوز رکھا گیا ہے، جنہیں زیادہ قابل اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے شکاگو یونیورسٹی کے فضائی معیار زندگی اشاریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں فضائی آلودگی شہریوں کی اوسط عمر میں کئی برس تک کمی کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے ذرائع پر فوری سختی کی جائے، آنند وہار جیسے علاقوں میں مقامی سطح پر فوری کارروائی اور صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے، جبکہ جن دنوں فضائی معیار خراب یا اس سے زیادہ خراب درجے میں ہو، ان دنوں عوامی صحت سے متعلق ضابطوں پر لازماً عمل درآمد کرایا جائے۔ اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘