ہماچل پردیش میں تباہی کا منظر / فائل فوٹو / یو این آئی
ہماچل پردیش میں منڈی ضلع کے کوٹلی سب ڈویژن کے تحت گرام پنچایت سوراڈی کے روپڑو گاؤں پر لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین خطرہ منڈرا رہا ہے۔ پہاڑی سے بڑی چٹانیں اور ملبہ گاؤں کے اوپر لٹک گیا ہے۔ پہاڑی پر دراڑیں آنے سے لوگ بُری طرح خوف زدہ ہیں۔ ایک وسیع چٹان اپنی جگہ سے کھسکتی ہوئی مقامی رہائشی پرم دیو کی گوشالہ پر گری اور اسے پوری طرح زمین دوز کر دیا۔ انتظامیہ نے خطرے کے پیش نظر روپڑو گاؤں کے 9 خاندانوں کو فوری طور پر وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق گاور کنسٹرکشن کمپنی اس مقام پر نیشنل ہائی وے بنا رہی ہے۔ پہلے اس جگہ پر کام بند کردیا گیا تھا لیکن آگے پیچھے کام جاری تھا۔ علاقے میں دو دن کی بارش کے بعد روپڑو گاؤں کے اوپر کی پہاڑی میں شگاف پڑ گئے اور ملبے کے ساتھ چٹانیں سڑک پر آگئے۔ اس کے علاوہ 3 سے 4 پتھر سڑک پر گرنے کے دہانے پر ہیں۔ قومی شاہراہ کی تعمیر کے دوران ہوئی کٹنگ کو اس لینڈ سلائیڈنگ کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
پرم دیو گھر میں تعمیری کام کی وجہ سے اپنا راشن اور دیگر سامان گوشالہ میں رکھے ہوئے تھے۔ چٹان گرنے سے وہ سب تباہ ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرم دیو کینسر کا مریض ہے اور عوام کی مدد سے اپنے گھر کی چھت بنانے کا کام کر رہا تھا۔ پرم دیو، کشمیر سنگھ، منی رام، تیج سنگھ اور پرکاش چند سمیت کئی لوگوں کے گھر اب بھی خطرے میں ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں ایک بڑا شگاف آ گیا ہے جس سے 9 گھروں اور دو سے تین گاؤں کو خطرہ ہے۔
Published: undefined
ایس ڈی ایم کوٹلی نے تحصیلدار کے ساتھ گاؤں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ ایس ڈی ایم نے بتایا کہ پہاڑی سے چٹان اور ملبہ گرا ہے اور پہاڑی میں دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔ ایک شخص کی گو شالہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ تمام رہائشیوں کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے اور ان کے لیے پنچایت بھون میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ 9 خاندان ابھی اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ہر خاندان کو فوری راحت کے طور پر 10-10 ہزار روپئے کی رقم دی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined