نیٹ امتحان منسوخ ہونے پر تیجسوی یادو کا حکومت پر حملہ، کہا- ’پیپر لیک کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری‘
نیٹ یو جی امتحان منسوخ ہونے پر تیجسوی یادو نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے مسلسل کھلواڑ ہو رہا ہے

پٹنہ: ملک بھر میں منعقد کیے گئے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ یو جی 2026 کو منسوخ کیے جانے کے بعد راشٹریہ جنتا دل کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بہار سمیت پورے ملک میں پیپر لیک کا ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے جس نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا، تاہم نئی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ پیپر لیک کی وجہ سے 2026 کا امتحان منسوخ کرنا پڑا اور 23 لاکھ طلبہ کے مستقبل سے ایک بار پھر کھلواڑ کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتوں میں اتنی بھی انتظامی صلاحیت، اہلیت اور قوت ارادی نہیں بچی کہ ایک عام امتحان کو منظم طریقے سے بغیر پیپر لیک کے منعقد کیا جا سکے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک میں مسلسل ہونے والے پیپر لیک محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسا سلسلہ بن چکا ہے جس پر حکومت کی نیت اور پالیسی دونوں سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ صرف نمائشی جانچ اور رسمی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو سنجیدہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوبارہ امتحان کے انعقاد سے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی، جسمانی اور مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق جب دوبارہ 23 لاکھ طلبہ ملک کے 552 شہروں میں قائم امتحانی مراکز تک جائیں گے تو اس سے پیٹرول اور ڈیزل کی بڑے پیمانے پر کھپت ہوگی اور عام لوگوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
تیجسوی یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اس پورے معاملے کے سماجی اور معاشی اثرات کا کوئی جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کے حل کے بجائے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تقاریر اور دعووں سے ملک نہیں چلتا بلکہ شفافیت اور جوابدہی سے نظام مضبوط ہوتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
