
شدید بارش / یو این آئی
خلیج بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا علاقہ اب گہرے دباؤ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کے ساحلی علاقوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 22 ستمبر کو یہ نظام وشاکھاپٹنم سے تقریباً 320 کلومیٹر مشرق میں موجود تھا۔ یہ مغرب-شمال مغربی سمت میں تقریباً 17 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ نظام مزید شدید ہو سکتا ہے۔ 23 ستمبر کی دیر رات سے 24 ستمبر کی صبح کے درمیان شمالی آندھرا پردیش اور جنوبی اوڈیشہ کے ساحلوں کو پار کر سکتا ہے۔ ممکنہ کراسنگ علاقہ وشاکھاپٹنم اور گوپال پور کے درمیان ہے۔ اس کی وجہ سے ساحلی اضلاع میں شدید سے شدید ترین بارش کا امکان ہے۔
یہ موسمی نظام مانسون کے آخری مرحلہ میں فعال ہوا ہے۔ خلیج بنگال میں اس وقت نمی اور درجہ حرارت کے حالات سازگار ہیں، جس کی وجہ سے یہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے آبی جماؤ، تیز ہواؤں اور سمندی لہروں کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو اپڈیٹس پر نظر رکھنے اور غیرضروری سفر سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے۔
ساحلی آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم اور شری کاکلم جیسے اضلاع میں شدید سے شدید ترین بارش ہو سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا کے گنجام اور پوری علاقوں میں بھی یہی صورتحال رہنے والی ہے۔ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جو درختوں کو اکھاڑنے یا بجلی کے کھمبوں کو گرا سکتی ہیں۔ سمندر میں تیز لہریں اٹھیں گی اس لیے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی وارننگ دی گئی ہے۔ آبی جماؤ کا مسئلہ شہروں اور گاؤں دونوں میں پیدا ہو سکتا ہے۔ سڑکیں بند ہونے یا آمد و رفت متاثر ہونے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے راحت کیمپ تیار رکھنے اور ایمرجنسی خدمات کو فعال رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔
واضح رہے کہ بارش کی شدت سسٹم کے کراسنگ کے وقت سب سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ 23 ستمبر کی رات اور 24 ستمبر کی صبح سب سے حساس وقت ہے۔ ان علاقوں میں پہلے سے ہی ندیوں کی آبی سطح معمول سے اوپر جا سکتی ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ گھروں کی چھتوں اور کمزور ڈھانچوں کی بھی جانچ کر لینی چاہیے۔ موسمی نظام کےساحل پار کرنے کے بعد اس کا اثر اندرونی علاقوں تک پہنچے گا۔ تلنگانہ میں 24 ستمبر کی صبح سے 25 ستمبر کی رات تک اس کے عروج پر رہنے کا امکان ہے۔ مشرقی اضلاع میں 200 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے، یہ مقدار معمول سے کافی زیادہ ہے اور سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ زرعی علاقوں میں کھیتوں میں پانی بھرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات مسلسل اپ ڈیٹ جاری کر رہا ہے اور لوگوں کو آفیشیل انتباہات پر عمل کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ تلنگانہ میں پہلے ہی مانسون کی بارش ہو چکی ہے، اس لیے اضافی پانی سے دریاؤں اور آبی ذخائر پر دباؤ بڑھے گا۔ مقامی انتظامیہ نے ڈرینیج سسٹم کی صفائی اور نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاری کی ہے۔ اسکول اور دفاتر متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس طرح کے موسمی نظام سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ ساحلی ریاستوں کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمے فعال ہیں۔ ریڈ کراس اور دیگر امدادی ایجنسیاں بھی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ عام شہریوں کو محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ یا ایپ پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ چیک کرنی چاہیے۔ بجلی کے آلات کو محفوظ رکھنا، پانی جمع نہ ہونے دینا اور بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنا اہم ہے۔ سمندری ساحلوں پر نہ جانا اور اونچی جگہوں پر رہنا بہتر ہوگا۔ گہرے دباؤ کے اثر سے کچھ دنوں تک موسم غیر مستحکم رہ سکتا ہے۔ بارش رکنے کے بعد بھی پانی جمع ہونے اور سڑکوں کی حالت معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت اور مقامی ادارے مل کر نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بروقت احتیاط برتنے سے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔