قومی خبریں

انتخابی ’ریوڑیوں‘ پر سپریم کورٹ میں سماعت کل، ماہرین قانون کے مطابق کمیٹی بنانے سے ایشو ہو جائے گا دفن

انتخابی ریوڑیوں کی باضابطگی سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ میں کل پھر سماعت ہوگی، گزشتہ ہفتہ عدالت نے اس معاملے میں ماہرین کی ایک کمیٹی بنانے کی تجویز رکھی تھی۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی 

انتخابات میں ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے ’ریوڑیاں‘ تقسیم کرنا مناسب ہے یا نہیں، اور اس مسئلہ سے کیسے نمٹا جائے، اس کے یے سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتہ نیتی آیوگ، انتخابی کمیشن، مرکزی حکومت، آر بی آئی، مالیاتی کمیشن اور اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کو ملا کر ماہرین کی ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے سپریم کورٹ نے سبھی فریقین اور اس معاملے میں عرضی داخل کرنے والوں کو ایک ہفتہ میں اپنا مشورہ عدالت کے سامنے رکھنے کو کہا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی طے کرے گی کہ مفت کی انتخابی ریوڑیوں کے مسئلہ کو کیسے باضابطہ بنایا جائے۔ عدالت نے یہ حکم اشونی اپادھیائے کی عرضی پر دیا تھا۔ اب معاملے کی سماعت کل یعنی 11 اگست کو ہونے والی ہے۔

Published: undefined

چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس کرشن مراری نے اس معاملے میں سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کی رائے بھی طلب کی تھی۔

اس معاملے میں ماہرین قانون نے اپنے رد عمل میں کہا کہ کمیٹی بنانے کا مطلب ہے معاملے کو دفن کر دینا۔ سینئر وکیل راجیو دھون نے سوال اٹھایا کہ ’’کمیٹی اور عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ان ریوڑیوں کا انتخابات پر کیا اثر پڑے گا۔ آخر کوئی کمیٹی اس سوال کا جواب کیسے دے سکتی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’کمیٹی یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ اس چیز پر روک لگا دو اور اس چیز کو کرنے دو، کیونکہ کسی بھی سفارش کو نافذ کرنے کے لیے انتخابی قانون میں تبدیلی کرنی ہوگی، اس کے بغیر کسی بھی پابندی کو نافذ کرنا مشکل ہوگا۔‘‘

Published: undefined

راجیو دھون نے کہا کہ ’’معاملہ یہ ہے کہ مفت ریوڑیوں کے اعلانات تو سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں، ایسے میں کیا اس سیاسی پارٹی یا کسی لیڈر پر پابندی لگائی جائے گی جو اعلانات کر رہا ہے۔ اس طرح کسی پارٹی کی منظوری ختم نہیں کی جا سکتی۔ اس کمیٹی کا انتخابی قانون پر اثر اور کسی بھی پارٹی یا لیڈر کی منظوری ختم کرنے کا معاملہ ہی اصل ایشو ہے۔‘‘

دوسری طرف سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے بھی تقریباً اسی طرح کا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ابھی تو صرف ایک کمیٹی بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ کوئی رپورٹ تو ابھی تک آئی نہیں ہے۔ حلقہ اختیار کا معاملہ تب سامنے آئے گا جب سپریم کورٹ اس کمیٹی کی سفارشات پر کوئی ایکشن لے۔ فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی بنا کر معاملے کو دفن کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے بعد ہی سپریم کورٹ کے سامنے معاملے کو بہتر سمجھنے کا متبادل ہوگا۔ اس کےبعد ہی کورٹ طے کر پائے گا کہ مسئلہ کا کیا حل ہو سکتا ہے۔‘‘

Published: undefined

اس معاملے پر انڈین سول لبرٹیز یونین (آئی سی ایل یو) کے بانی اور سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات کو لے کر فکرمند ہے تو پہلا قدم تو انتخابی بانڈ پر فیصلہ لینا ہوگا جو کہ عدالت کے پاس 2019 سے زیر التوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مفت ریوڑیوں کے اعلان سے کہیں زیادہ الیکٹورل بانڈ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم ایک فلاحی حکومت ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ سبسیڈی یا جنھیں مفت کی ریوڑیاں کہا جا رہا ہے، ان کا نہ صرف اعلان ہو بلکہ وہ جاری بھی رہنی چاہئیں، کیونکہ آبادی کے بڑے حصے کو اس کی ضرورت ہے۔‘‘

Published: undefined

اس معاملے میں عرضی دہندہ اشونی اپادھیائے کے وکیل وکاس سنگھ کا مشورہ ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق انتخابی کمیشن کے ذریعہ ہی طے ہو۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاسی پارٹی ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے مفت کی ریوڑیوں کے اعلانات کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں سرکاری قرض کو بھی دھیان میں رکھیں۔

معاملے کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا دعویٰ ہے کہ مفت کی ریوڑیاں تقسیم کیے جانے سے ووٹرس کا فیصلہ متاثر ہوتا ہے، اور اسی لیے اسے باضابطہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ سب جاری رہا تو اس سے معاشی طور پر بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن انس تنویر کہتے ہیں کہ مبینہ ریوڑیوں کا ٹیکس پیئرس پر سیدھا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے کیونکہ جس طرح سے بڑی بڑی مورتیاں بنائی جا رہی ہیں، اور سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

Published: undefined

اس معاملے میں مشورہ دینے کے لیے مدعو کیے گئے کپل سبل کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بحث سے انتخابی کمیشن کو الگ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ سیاسی اور معاشی ایشو ہے اور اس سے انتخابات کا سیدھے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined