قومی خبریں

مرکزی وزیر مالیات نرملاسیتارمن کی قیادت میں منعقد جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ ختم، لیے گئے کچھ اہم فیصلے

میٹنگ کے دوران جو فیصلے لیے گئے، ان میں کسی بھی افسر کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے سمیت کچھ معاملوں کو جرائم کے درجہ سے ہٹانا وغیرہ شامل ہیں۔

وزیر مالیات نرملا سیتارمن / تصویر یو این آئی
وزیر مالیات نرملا سیتارمن / تصویر یو این آئی DHARMENDRA KUMAR

مرکزی وزیر مالیات نرملاسیتارمن کی قیادت میں آج جی ایس ٹی کونسل کی 48ویں میٹنگ ورچوئل موڈ میں انجام پذیر ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میٹنگ میں کچھ اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔ مرکزی وزیر مالیات نے اس میٹنگ کے بعد دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران ایجنڈا کے آٹھ نکات پورے ہوئے۔ جی او ایم کے دو ایشوز تھے جن پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت تھی، لیکن ان پر غور نہیں کیا جا سکا۔ یہ ایشوز تمباکو اور گٹکا سے متعلق صلاحیت کی بنیاد پر ٹیکس نظام اور جی ایس ٹی ٹریبونل پر مبنی تھے۔

Published: undefined

اس میٹنگ سے متعلق ریونیو سکریٹری نے بتایا کہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران جو فیصلے لیے گئے، ان میں کسی بھی افسر کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے سمیت کچھ معاملوں کو جرائم کے درجہ سے ہٹانا اور جی ایس ٹی قوانین کے تحت کسی بھی معاملے میں پریزیکیوشن شروع کرنے کی رقم کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر دو کروڑ روپے کرنا (نقلی چالان کو چھوڑ کر) وغیرہ شامل ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے بعد ریونیو سکریٹری نے کہا کہ دالوں کی بھوسی پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے گھٹا کر صفر کر دی گئی ہے۔ میٹنگ میں ریفائنریوں کے لیے پٹرول کے ساتھ اتھنال مرکب کی اجازت پانچ فیصد کی رعایتی شرح پر دی گئی ہے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز شروع ہوئی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران جی ایس ٹی قانون کے تحت آنے والے کچھ جرائم کو اس فہرست سے نکالنے، اپیلی ٹریبونل کے قیام اور پان مسالہ اور گٹکا کاروبار میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے نظام بنانے پر غور کیا گیا۔ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ اس میٹنگ کے دوران آن لائن گیمنگ اور کیسینو پر جی ایس ٹی سے جڑے ایشوز پر بھی تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔ میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کانراڈ سنگما کی صدارت میں گزشتہ سال اس معاملے پر تشکیل وزراء کے گروپ (جی او ایم) نے جمعرات کو وزیر مالیات نرملا سیتارمن کو اس سے جڑی اپنی رپورٹ سونپی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined