
این سی پی چیف شرد پوار نے اجیت پوار کے ٹوئٹس کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا کوئی سوال ہی نہیں ہے، شرد پوار نے ٹوئٹ كرتے ہوئے کہا، ’’بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، این سی پی نے متفقہ طور پر شیوسینا اور کانگریس کے ساتھ مل کر مہاراشٹر میں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’اجیت پوار کا بیان جھوٹا اور لوگوں کے درمیان بھرم پیدا کرنے والا ہے‘‘۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
اجیت پوار نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں این سی پی میں ہوں اور ہمیشہ رہوں گا اور شرد پوار ہمارے رہنما ہیں، انہوں نے ٹوئٹ میں آگے کہا کہ ہمارا بی جے پی- این سی پی اتحاد اگلے پانچ سالوں کے لئے مہاراشٹر میں ایک مستحکم حکومت فراہم کرے گا جو ریاست اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایمانداری سے کام کرے گی۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
این سی پی کے ایم ایل اے دولت درودا، جن کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی اور این سی پی کی جانب سے پولس میں شکایت بھی درج کروائی گئی تھی، وہ اب منظر عام پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں سلامت ہوں۔ میں نے این سی پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا ہے، تو وفاداری تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شرد پوار اور اجیت پوار جو بھی فیصلہ لیں، میں ان کے ساتھ ہوں۔ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں۔‘‘
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
سپریم کورٹ نے دلائل کو سننے کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کل صبح تک بی جے پی کو ’حمایت کا خط‘ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اب اس معاملہ کی سماعت کل صبح ساڑھے دس بجے کی جائے گی۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
مکل روہتگی نے کہا کہ گورنر غلط ہے، سپریم کورٹ ایسا کوئی حکم جاری نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا فیصلہ جائزے سے بالاتر ہے۔ روہتگی نے کہا کہ وہ یہاں بی جے پی (آشیش) اور کچھ آزاد امیدوار کی طرف سے پیش ہوا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 360 اور 361 میں صدر اور گورنر کے اختیارات کی تفصیل ہے۔ آرٹیکل 361 کے تحت، گورنر اپنے دائرہ اختیار میں ہونے والے کاموں کے لئے کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ نیز گورنر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وزیر اعلی کے طور پر جسے چاہے منتخب کر سکتا ہے۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
کانگریس اور این سی پی کی جانب سے پیش ہونے والے ابھیشیک منو سنگھوی نے سپریم کورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر میں جوڑ توڑ کی سیاست کو روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جلد از جلد فلور ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت کے دوران کپل سبل نے سپریم کورٹ میں کہا، ’’مہاراشٹر کے لوگوں کو حکومت کی ضرورت ہے۔ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اکثریت ہے تو ہم اسے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم کل ہی اکثریت ثابت کر سکتے ہیں۔
سبل نے مزید کہا ، ’’ہم نے کرناٹک میں بھی یہ ثابت کیا ہے۔ اگر ان (بی جے پی) کے پاس اکثریت ہے تو انہیں اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہئے۔‘‘
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
ابھیشیک منو سنگھوی نے کانگریس کا موقف پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا ہے وہ شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کا ہر اقدام اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ فڑنویس کی جانب سے گورنر کو جو بھی دستاویزات پیش کئے گئے ہیں انہیں طلب کیا جائے اور بی جے پی سے جلد اسمبلی میں پروٹیم اسپیکر مقرر کرتے ہوئے اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہا جائے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اکثریت صوتی ووٹوں سے ثابت کی جائے اور سارے عمل کی ویڈیو گرافی بھی کی کروائی جائے۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
مہاراشٹر میں فڑنویس کی قیادت والی حکومت بنانے پر شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی گورنر کے حکم کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین سینئر جج این وی رمن کی سربراہی والی تین رکنی خصوصی بینچ اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے۔
درخواست گزاروں کا دعوی ہے کہ شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اتحاد ، مہاوکاس آگاڑی کو 144 سے زیادہ ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے ، جبکہ فڑنویس حکومت اکثریت سے بہت پیچھے ہے۔
فڑنویس کو جمعہ کی صبح وزیر اعلی کا حلف دلائے جانے کے بعد شیوسینا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی تینوں نے مشترکہ طور پر گذشتہ شام دیر سے یہ عرضی داخل کی ہے اور مرکزی حکومت ، مہاراشٹر حکومت ، فڑنویس اور این سی پی کے رہنما اجیت پوار کو مدعا علیہ بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے معاملے کی جلد سماعت کے لئے درخواست کی۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت کچھ ہی دری میں شروع ہونے جا رہی ہے اور دونوں اطراف کے لوگ عدالت اعظمیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹر کانگریس کے رہنما پرتھویراج چوان ، رندیپ سورجے والا ، ابھیشیک منو سنگھوی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ جب نامہ نگاروں نے ابھیشیک منو سنگھوی سے سوال کرنا چاہا تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 24 Nov 2019, 11:32 AM IST