
آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر کے شہریوں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے خبردار کرتے ہوئے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وزارت کے مطابق سائبر مجرم اب جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے انتہائی حقیقی نظر آنے والی ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی شناختیں تیار کر رہے ہیں، جن کے ذریعے مالی اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مجرم مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف حفاظتی نظاموں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں اور مالیاتی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وزارت کے مطابق ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی شناختوں کا استعمال چہرے کی تصدیق، لائیونیس جانچ، ویڈیو کے وائی سی، اکاؤنٹ کی بحالی اور مختلف مالیاتی و ڈیجیٹل خدمات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ سائبر دھوکہ باز عموماً سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم، ملازمت کے پورٹل، آن لائن تعلقات کے پلیٹ فارم یا فون کالز کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد متاثرہ افراد کی چہرے سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگوں کو کیمرے کے سامنے پلک جھپکانے، سر گھمانے یا چند الفاظ بولنے جیسی معمولی حرکات کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، جس کے بعد حاصل شدہ معلومات کو جعلی شناخت یا ڈیپ فیک مواد تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی جعلی شناختیں روایتی حفاظتی اقدامات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ ایسے میں مالیاتی اداروں، مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ تنظیموں کو اپنے حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں اور ڈیپ فیک مواد کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے۔
وزارت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بایومیٹرک معلومات اور ذاتی ڈیجیٹل معلومات کو محفوظ رکھیں، مشتبہ لاگ اِن کوششوں پر فوری توجہ دیں اور اپنے بینک کھاتوں یا دیگر مالیاتی خدمات سے متعلق برقی ڈاک اور مختصر پیغام کی اطلاعات پر مسلسل نظر رکھیں۔
Published: undefined
وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کو مشتبہ مالیاتی لین دین یا سائبر دھوکہ دہی کا شبہ ہو تو وہ فوری طور پر قومی سائبر جرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعے شکایت درج کرائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ وزارت کے مطابق عوامی بیداری اور احتیاط ہی ایسے جدید سائبر جرائم سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined