دہلی پولیس نے ’پے ٹی ایم‘ کے وائی سی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے سائبر گروہ کا کیا پردہ فاش، تین گرفتار
دہلی پولیس نے پے ٹی ایم کے وائی سی اپ ڈیٹ کے نام پر دھوکہ دے کر کھاتوں سے رقم نکالنے والے بین الریاستی سائبر گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گروہ مختلف ریاستوں میں سرگرم تھا

نئی دہلی: دہلی پولیس کی سینٹرل ڈسٹرکٹ سائبر سیل نے پے ٹی ایم کے وائی سی کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنا کر بینک کھاتوں سے رقم نکالنے والے ایک بین الریاستی سائبر دھوکہ دہی گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک چائے فروش کے ساتھ دھوکہ دہی کے معاملے کی جانچ کے دوران انجام دی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ سائبر جرائم میں ملوث یہ گروہ خود کو پے ٹی ایم کا ملازم ظاہر کرکے لوگوں سے رابطہ کرتا تھا۔ ملزمان متاثرین کو کے وائی سی اپ ڈیٹ کرنے یا موبائل سیٹنگ درست کرنے کا جھانسہ دیتے تھے۔ اس بہانے وہ متاثرہ شخص کے موبائل فون تک رسائی حاصل کر لیتے تھے اور پھر بینک کھاتوں سے غیر قانونی طریقے سے رقم منتقل کر لیتے تھے۔
اسی طریقے سے دہلی کے جنوبی پٹیل نگر علاقے میں رہنے والے ایک چائے فروش کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ملزمان نے اس کے بینک کھاتے سے تقریباً 90 ہزار روپے نکال لیے۔ شکایت ملنے کے بعد سائبر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا اور جانچ شروع ہوئی۔
جانچ کے دوران پولیس نے تکنیکی نگرانی، بینک لین دین کے تجزیے، فائدہ اٹھانے والے کھاتوں کی جانچ اور نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد لی۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم پنجاب نیشنل بینک کے ایک کھاتے میں منتقل کی گئی تھی، جس کا استعمال مزید سائبر جرائم میں کیا جا رہا تھا۔
پولیس نے ڈیجیٹل شواہد اور موبائل نمبروں کے تجزیے کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کی۔ جانچ میں سامنے آیا کہ یہ گروہ مختلف ریاستوں میں سرگرم تھا اور اس میں ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش کے افراد شامل تھے۔
تکنیکی معلومات اور مقامی خفیہ جانکاری کی مدد سے پولیس نے پنچکولہ، زیرک پور اور آس پاس کے علاقوں میں چھاپے مارے اور تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والوں میں پنچکولہ کا رہنے والا وشیش سنگھ شامل ہے، جس پر بینک کھاتے فراہم کرنے اور سائبر جرائم میں استعمال ہونے والی کٹ سپلائی کرنے کا الزام ہے۔ دوسرا ملزم سچن موریہ ہے، جو بینک کھاتوں سے متعلق کٹ جمع کرنے اور انہیں آگے سپلائی کرنے کا کام کرتا تھا۔ تیسرا ملزم آشیش شرما ہے، جو ہماچل پردیش کے اونا ضلع کا رہنے والا ہے اور اس نیٹ ورک کے انتظام اور سپلائی کے کام سے وابستہ تھا۔
پولیس کے مطابق پوچھ گچھ میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ کمیشن کے بدلے بینک کھاتے، اے ٹی ایم کارڈ، رجسٹرڈ سم کارڈ اور بینکنگ معلومات فراہم کرتے تھے۔ ان چیزوں کا استعمال سائبر مجرم دھوکہ دہی کی رقم مختلف کھاتوں میں منتقل کرنے اور نکالنے کے لیے کرتے تھے۔
جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اور منظم انداز میں پورے نیٹ ورک کو چلاتے تھے۔ پولیس اب اس گروہ سے جڑے دیگر افراد اور مالی لین دین کی مزید جانچ کر رہی ہے تاکہ پورے سائبر دھوکہ دہی نیٹ ورک کا مکمل انکشاف کیا جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
