
پی ایم مودی کی فائل تصویر، یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی آج بہار دورے پر تھے۔ انھوں نے سیوان میں ریلی بھی کی، جس میں جمع لوگوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خراب موسم میں بھی پہنچنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اب کانگریس نے ایک ویڈیو شیئر کر پی ایم مودی کی اس ریلی میں جمع بھیڑ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ کانگریس نے 2 ویڈیو کا ’کولاج‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے، جس میں ایک طرف پی ایم مودی ریلی میں پہنچے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں، اور دوسری ویڈیو میں ایک آنگن واڑی ملازمہ کہہ رہی ہے کہ اسے زبردستی ریلی میں شامل ہونے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے مذکورہ بالا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن لگایا ہے ’’مودی جی، بس کیجیے... قلعی کھل چکی ہے۔‘‘ ویڈیو میں پی ایم مودی کہتے نظر آ رہے ہیں ’’ابھی کل ہی بارش ہوئی، صبح بھی تھوڑی بارش ہوئی۔ اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں آپ کا آنا، میں آپ کا دل سے جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔‘‘ اس کے بعد دوسری ویڈیو میں کچھ خواتین بس میں بیٹھی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک خاتون کہتی ہے کہ ’’ہم بالکل نہیں آنا چاہتے تھے۔ ہم آخر کس لیے آئیں؟ بھئی، ہم لوگوں کی جو ضرورت ہے، وہ تو پوری ہوتی نہیں، تو کس لیے آئیں۔ ہماری (آنے کی) خواہش نہیں تھی۔ ہم لوگوں کو زبردستی بھیجا جا رہا ہے۔‘‘ وہ یہاں تک کہتی ہے کہ ’’پبلک اکٹھا نہیں ہوئی تھی، اس لیے یہاں پر پبلک دکھانے کے لیے ہم لوگوں کو لے کر جایا جا رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
دراصل ایک میڈیا ادارہ نے آنگن واڑی سے جڑی کچھ خواتین سے بات کی تھی جس میں انھوں نے بتایا کہ سبھی کو ریلی میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ افسران کے حکم کی استطاعت کرتے ہوئے پی ایم مودی کی ریلی میں شامل ہونے جا رہی تھیں۔ ایک خاتون نے تو یہ بھی بتایا کہ ان سے کہا گیا ہے وہ عام لباس میں پہنچیں تاکہ وہ دیکھنے میں عام پبلک نظر آئیں۔ اس ویڈیو کو الگ سے بھی کانگریس نے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی جی نے آج بہار کے سیوان میں ریلی کی۔ اس ریلی میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے آنگن واڑی ملازماؤں اور الگ الگ محکموں کے سرکاری ملازمین کو بسوں میں بھر کر ریلی میں لایا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے– ہم نریندر مودی کی ریلی میں نہیں آنا چاہتے تھے، ہمیں زبردستی لایا گیا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined