ایران-اسرائیل جنگ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ ایران کے خلاف امریکی فوج کے ’آپریشن ایپک فیوری‘ میں 2 ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران میں واقع ہندوستانی سفارتخانہ نے ایک نئی ایڈوائزری جاری کر ہندوستانی شہریوں سے جلد از جلد ملک چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ اس ایڈوائزری میں شہریوں سے سفارتخانہ کے ساتھ رابطہ رکھنے اور صرف سفارتخانہ کے ذریعہ تجویز کردہ راستوں کا استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ قدم خطے میں حال ہی میں ہونے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔
Published: undefined
ہندوستانی سفارتخانہ نے واضح کیا کہ یہ نئی ایڈوائزری 7 اپریل کو جاری کیے گئے پہلے نوٹس کے بعد آئی ہے۔ اس میں اعادہ کیا گیا ہے کہ جو ہندوستانی اب بھی ایران میں موجود ہیں وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں اور اس کے لیے سفارتخانہ کے رابطے میں رہ کر اسی کے تجویز کردہ محفوظ راستوں کا استعمال کریں۔ ایڈوائزری میں خاص طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی شہری سفارتخانہ سے مشورہ کیے بغیر کسی بین الاقوامی سرحد کی جانب جانے کی کوشش نہ کریں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ طور پر سرحد تک پہنچنے کی کوشش خطرناک ہو سکتی ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔
Published: undefined
سفارتخانہ نے ہندوستانی شہریوں کی مدد کے لیے کئی ایمرجنسی موبائل نمبر اور ایک آفیشل ای میل آئی ڈی بھی شیئر کی ہے۔ ضرورت پڑنے پر شہری ان کے ذریعہ فوری طور پر رابطہ کر سکتے ہیں اور محفوظ طریقے سے نکلنے کے لیے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز (7 اپریل) کو ٹرمپ کے ایران پر شدید حملے کی وارننگ کے بعد سفارتخانہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تمام شہریوں کو 48 گھنٹے گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ فوجی اور بجلی کی تنصیبات سے بچیں، عمارتوں کی اوپری منزلوں سے دور رہیں، آمد و رفت محدود کریں اور آفیشل ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ سفارتخانہ کے زیر انتظام رہائش گاہوں میں ٹھہرے ہندوستانیوں کو اپنے کمروں میں ہی رہنے اور وہاں تعینات سفارت خانہ کی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے بعد جاری نئی ایڈوائزری میں جلد از جلد ملک چھوڑنے کی بات کہی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined