قومی خبریں

اپنی کتاب جنرل منوج مکند نرونے کی پہلی عوامی وضاحت، پینگوئن کے بیان کو کیا ری پوسٹ

سابق فوجی سربراہ جنرل نرونے نے اپنی کتاب ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ پر پہلی بار سوشل میڈیا پر ردعمل دیا اور پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کی موجودہ صورت حال یہی ہے

آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے، تصویر یو این آئی
آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے، تصویر یو این آئی PREM SINGH

سابق فوجی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی کتاب ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ سے متعلق جاری تنازعہ کے درمیان پہلی بار عوامی سطح پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ منگل کے روز انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے سرکاری بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کتاب کی موجودہ صورت حال یہی ہے۔ ان کے اس مختصر تبصرے کو جاری سیاسی بحث کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ جنرل نرونے کی خود نوشت ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے اور اس کی کوئی بھی نقل نہ تو مطبوعہ شکل میں جاری کی گئی ہے اور نہ ہی ڈیجیٹل صورت میں عوام کے لیے دستیاب کرائی گئی ہے۔ پبلشر کے مطابق کتاب کی اشاعت کے حقوق صرف اسی کے پاس ہیں اور جو نسخے گردش میں ہیں وہ غیر مجاز سمجھے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی کتاب کا اعلان ہونا یا اسے پری آرڈر کے لیے دستیاب کرانا اشاعت کے مترادف نہیں ہوتا۔

Published: undefined

یہ معاملہ اس وقت سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا جب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کتاب عوامی دائرے میں موجود ہے اور حکومت اس میں موجود غیر سہولت آمیز انکشافات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ پبلشر کے مقابلے میں سابق فوجی چیف کے بیان پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس تنازعہ کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے بھی جوڑا تھا اور حکومت پر تنقید کی تھی۔

Published: undefined

جنرل نرونے کی جانب سے پینگوئن کے بیان کو ری پوسٹ کیے جانے کے بعد کتاب کی اشاعت سے متعلق ابہام کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی سطح پر بحث کا سلسلہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس موضوع پر گفتگو جاری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined