قومی خبریں

انرجی ڈرنک کے دعوؤں پر ریڈ بل، پیپسی کو، کیمپا سمیت کئی کمپنیوں کو فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا نوٹس

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے ریڈ بل، پیپسی کو، کیمپا جیسی کمپنیوں کو انرجی ڈرنک سے متعلق دعووں، برانڈنگ اور لیبلنگ کے معاملے پر نوٹس جاری کیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

نئی دہلی: فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے انرجی ڈرنک سے متعلق دعوؤں، برانڈنگ اور لیبلنگ کے معاملے میں ریڈ بل، پیپسی کو انڈیا، کیمپا، مونسٹر، ہیل انرجی اور دیگر کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ غذائی قوانین کے تحت انرجی ڈرنک یا اس نوعیت کی مصنوعات کے لیے کوئی الگ معیار مقرر نہیں کیا گیا، اس لیے متعلقہ دعوؤں اور لیبلنگ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 اور اس کے تحت نافذ ضابطوں میں انرجی ڈرنک یا اس سے ملتی جلتی مصنوعات کے لیے کوئی مخصوص معیار موجود نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر مختلف کمپنیوں کو وضاحت طلب نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

اتھارٹی نے بتایا کہ جن مصنوعات کے سلسلے میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں ریڈ بل انرجی ڈرنک، ہیل انرجی، کیمپا انرجی ڈرنک، مونسٹر انرجی، پیپسی کو انڈیا کی ایڈرینالین رش اور اسٹنگ شامل ہیں۔ ان کی برانڈنگ اور لیبلنگ کا جائزہ موجودہ ضابطوں کے مطابق لیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوڈ پروڈکٹس اسٹینڈرڈز اینڈ فوڈ ایڈیٹوز ریگولیشنز، 2011 کے تحت فوڈ کیٹیگری سسٹم کو کسی بھی مصنوعات کا نام رکھنے یا اس کی لیبلنگ کے مقصد سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اتھارٹی کے مطابق غذائی مصنوعات کے بارے میں ایسے دعوے بھی منظور نہیں ہیں جن سے یہ تاثر ملے کہ وہ توانائی کی سطح بڑھاتی ہیں، توجہ میں اضافہ کرتی ہیں، جسم یا دماغ کو فوری تازگی فراہم کرتی ہیں، دماغ کو متحرک کرتی ہیں یا عام کمزوری دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جب تک ان دعوؤں کی ضابطوں کے مطابق اجازت نہ دی گئی ہو۔

فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے کہا کہ یہ کارروائی غذائی مصنوعات کی برانڈنگ اور لیبلنگ کو قانون کے مطابق بنانے اور صارفین کو درست معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اتھارٹی چاہتی ہے کہ بازار میں فروخت ہونے والی غذائی مصنوعات کے بارے میں ایسے دعوے نہ کیے جائیں جو موجودہ ضابطوں سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined