قومی خبریں

ممبئی میں بھانڈوپ ریلوے اسٹیشن کے قریب’ بیسٹ ‘ بس نے لوگوں کو کچلا جس میں چار افرادہلاک

ممبئی کے بھانڈوپ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک بس نے ریورس کرتے  ہوئے متعدد افراد کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

کل یعنی پیر کی رات ممبئی کے بھانڈوپ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک بڑا حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ’بیسٹ‘ بس نے متعدد افراد کو کچل دیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بس نے ریورس کرتے ہوئے متعدد افراد کو کچل دیا جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوگئے۔

Published: undefined

یہ واقعہ 29 دسمبر کی رات تقریباً 10:05 بجے اسٹیشن روڈ، بھانڈوپ ویسٹ پر پیش آیا۔ فائر بریگیڈ کنٹرول روم کو حادثے کی اطلاع دی گئی، اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، بس پیچھے کی طرف جا رہی تھی کہ وہاں موجود لوگوں سے ٹکرا گئی، جس سے کئی لوگ کچل گئے۔ واقعے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ایمبولینس کے ذریعہ  اسپتال منتقل کیا گیا۔

Published: undefined

پولیس اور دیگر ایجنسیاں اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہیں، صورتحال پر قابو پا کر واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حادثے کے وقت بس میں کئی مسافر سوار تھے۔ تاہم، بس ڈرائیور فی الحال زیر تفتیش اور پولیس کی تحویل میں ہے۔

Published: undefined

جنتا دل (شمال مشرقی ممبئی) کے صدر سنجیو کمار سدانند نے حادثے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حادثے کے بارے میں دیر سے معلوم ہوا، لیکن بھانڈوپ میں بس کے بارے میں خدشات پہلے ہی سے اٹھائے جا رہے تھے۔ سنجیو کمار سدانند نے وضاحت کی کہ مقامی باشندوں نے بس میں ڈیزائن کی خرابی کا الزام لگایا۔ اس سے قبل بجلی کی خرابی کی وجہ سے بسوں میں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھانڈوپ میں اس بس کو چلانے کی مخالفت کی گئی۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ چھوٹی بس جو پہلے بھانڈوپ میں چلتی تھی انہیں بند کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ یہ نئی بس متعارف کرائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ بیسٹ کمیٹی نے اس بس کو یہاں چلانے کی اجازت دی، حالانکہ مقامی سطح پر اس پر اعتراضات اٹھائے جا رہے تھے۔ (بشکریہ انپٹ نیوز پورٹل ’آج تک‘)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined