نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز اور ایران کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا

ایران کسی قسم کے جھکنے کے موڈ میں نہیں ہے، جب کہ ٹرمپ سمجھوتے کی امید کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو یہ معلومات شیئر کی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

28 فروری 2026 کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے نے ایران اور پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم تہران کی جوابی کارروائی نے تنازعہ کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ اس حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز تک رسائی روک دی جس سے کئی ممالک اقتصادی بحران میں ڈوب گئے۔ مذاکرات جاری ہیں، پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران اپنی جوہری طاقت برقرار رکھے جب کہ ایران نے امریکہ کی شرائط کو یک طرفہ قرار دیا ہے۔

ایران کسی قسم کے جھکنے کے موڈ میں نہیں ہے، جب کہ ٹرمپ سمجھوتے کی امید کر رہے ہیں۔ یہ خبر اتوار کو منظر عام پر آئی، جس کی تفصیلات اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے شیئر کی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے گزشتہ رات صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی تصفیہ کے لیے آئندہ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بات کی۔


انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور وہ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے کے لئے ایران کو جوہری خطرے کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی جوہری افزودگی کی جگہوں کو ختم کرنا اور اس کے افزودہ جوہری مواد کو اپنی سرزمین سے ہٹانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے اسرائیل کے حق کی بھی توثیق کی۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری میدان جنگ میں ثابت ہوئی۔‘ نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرح ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔