نیپال: سابق وزیر مالیات نے ہندوستانیوں کے لیے سونے کے زیورات پر ٹیکس ہٹانے کا کیا مطالبہ، سیاحت بڑھانے کی کوشش

سریندر پانڈے نے نیپال کو ویڈنگ ڈیسٹنیشن کی شکل میں فروغ دینے کی صلاحیت پر زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے ملک میں آنے والے ہندوستانی مہمانوں کے لیے سونے کے زیورات پر ٹیکس سے چھوٹ دینے کی ضرورت ہے۔

<div class="paragraphs"><p>زیورات کی خریداری کا منظر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نیپال کے سابق وزیر خزانہ سریندر پانڈے نے وزیر اعظم بالیندر شاہ کی قیادت والی حکومت سے اپیل کی کہ ہندوستانی شہریوں کو سونے کے زیورات پر ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ انھوں نے یہ مطالبہ اتوار کے روز کیا اور زور دیا کہ ہمالیائی ملک میں ویڈنگ ڈیسٹینیشن بننے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔ کاٹھمنڈو میں ایک پروگرام کے دوران سریندر پانڈے نے کہا کہ حکومت کو کم سے کم مداخلت کرنی چاہیے اور بازار کو آزادانہ طور پر کام کرنے دینا چاہیے۔ سخت قوانین اور ضوابط نیپال کی معیشت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

سریندر پانڈے نے نیپال کو ویڈنگ ڈیسٹینیشن کے طور پر فروغ دینے کی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ملک آنے والے ہندوستانی مہمانوں کے لیے سونے کے زیورات پر ٹیکس میں چھوٹ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ہندوستانی گاڑیوں کے نیپال میں داخلے کو بھی آسان بنانے کی اپیل کی۔


کاٹھمنڈو میں منعقدہ ایک پروگرام میں سابق وزیر خزانہ سریندر پانڈے نے کہا کہ نیپال حکومت کو بازار کو زیادہ آزادی دینی چاہیے اور ضرورت سے زیادہ قوانین نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ حد سے زیادہ سخت ضوابط معیشت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ سریندر پانڈے نے ہندوستانی شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیپال کو ویڈنگ ڈیسٹینیشن کے طور پر فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تاہم اس کے لیے ہندوستانیوں کے پہننے والے سونے کے زیورات پر ٹیکس میں رعایت دینی ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت نیپال میں ہوائی راستے سے آنے والے غیر ملکی مسافروں کو 50 گرام تک سونے کے زیورات اور 100 گرام تک چاندی کے زیورات کسٹم ڈیوٹی کے بغیر لانے کی اجازت ہے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ سفر مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس لے جانا ہوگا۔ ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق یہ چھوٹ صرف ذاتی استعمال کے لیے دی جاتی ہے۔


کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سریندر پانڈے نے حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ہندوستان اور چین سے آنے والے سیاحوں کے لیے بڑے سیاحتی پیکیج تیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کو دونوں ممالک کے کروڑوں لوگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہندوستانی گاڑیوں کے نیپال میں داخلے کو آسان بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں ہندوستانی سیاح نیپال کا رخ کریں گے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔