قومی خبریں

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملہ میں ملی ’سپریم‘ راحت، سمن رَد کرنے کا فیصلہ

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال دسمبر 2024 میں ہو گیا تھا، پھر بھی سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کے جواز کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس میں ان کے خلاف کئی منفی تبصرے کیے گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/priyankagandhi">@priyankagandhi</a></p></div>

ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر @priyankagandhi

 

سپریم کورٹ نے 29 جولائی کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملہ میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سمن جاری کرنے سے متعلق خصوصی سی بی آئی عدالت کے 2015 کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو مسترد کرنے اور ان کے خلاف نوٹس لینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں تھی۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے سابق وزیر اعظم کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دینے والی سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو قبول کر لیا اور معاملے سے متعلق کارروائی ختم کر دی۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال دسمبر 2024 میں ہو چکا تھا، اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کے جواز کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس میں ان کے خلاف کئی منفی تبصرے کیے گئے تھے۔ آنجہانی سابق وزیر اعظم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد اگرچہ تکنیکی طور پر یہ اپیل غیر مؤثر ہو گئی تھی، لیکن ٹرائل کورٹ کے تبصروں پر غور کرنا ضروری تھا۔

ایڈووکیٹ کپل سبل نے سماعت کے دوران بنچ سے درخواست کی کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف کیے گئے تبصرے حذف کیے جائیں۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مقدمے کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے، جس پر سبل نے جواب دیا کہ اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور منفی تبصرے کیے تھے، جنہیں حذف کیا جانا چاہیے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ متعلقہ مقدمات میں بعض دفعات کی آئینی حیثیت سے متعلق مسائل اب بھی زیر التوا ہیں۔ سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے بھی اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ کم از کم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے معاملے میں کیے گئے تبصرے تو حذف کیے جا سکتے ہیں۔

بہرحال، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں درج کیا ہے کہ اپیل کنندہ کے افسوسناک انتقال کے باعث اس اپیل کو غیر مؤثر قرار دے کر نمٹایا جا سکتا تھا، لیکن خصوصی جج کی جانب سے مقدمے کا نوٹس لینے اور اپیل کنندہ کو سمن جاری کرنے کے پہلو پر غور کرنے کے لیے ہم نے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی دونوں کلوزر رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’تحقیقی ایجنسی کی رپورٹ قبول کرنے سے متعلق اس عدالت کے مسلسل طے شدہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جج کے پاس سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو مسترد کرنے اور مقدمے کا نوٹس لینے کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’ہم اپیل منظور کرتے ہیں اور متنازعہ فیصلے کو منسوخ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہم سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ قبول کرتے ہیں اور مقدمہ بند کرتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ 2015 میں ٹرائل کورٹ نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو سمن جاری کیا تھا، لیکن دسمبر 2024 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ عدالت کی جانب سے سمن منسوخ کیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم اب یو پی اے دور کے سب سے ہائی پروفائل فوجداری مقدمات میں سے ایک میں باضابطہ طور پر بری الذمہ قرار دے دیے گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔